بے لوث محبت کا صلہ ڈھونڈھ رہا ہوں

نفس انبالوی

بے لوث محبت کا صلہ ڈھونڈھ رہا ہوں

نفس انبالوی

MORE BYنفس انبالوی

    بے لوث محبت کا صلہ ڈھونڈھ رہا ہوں

    ناداں ہوں یہ اس شہر میں کیا ڈھونڈھ رہا ہوں

    اک موڑ پہ ٹوٹے ہوئے کھنڈر سے مکاں میں

    گزرے ہوئے لمحوں کا پتا ڈھونڈھ رہا ہوں

    مدت سے یہ خنجر مرے سینے میں ہے اور میں

    رستے ہوئے زخموں کی دوا ڈھونڈھ رہا ہوں

    دیوانہ جسے سنگ تراشی کا جنوں ہے

    کہتا ہے کہ پتھر میں خدا ڈھونڈھ رہا ہوں

    منصف ترے انصاف سے واقف ہوں تبھی تو

    ناکردہ گناہوں کی سزا ڈھونڈھ رہا ہوں

    یہ شام اور اس پر تری یادوں کی حلاوت

    اک جام میں دو شے کا نشہ ڈھونڈھ رہا ہوں

    موضوعات

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY