نزاکت پر اشعار

نزاکت محبوب کی ایک اہم صفت ہے ۔ شاعروں نے محبوب کی اس صفت کا بیان مبالغہ آمیز انداز میں کیا ہے اور اپنے تخیل کی زرخیزی کا ثبوت دیا ہے ۔ نزاکت سے محبوب کے حسن کا حد درجہ اظہار بھی مقصود ہوتا ہے ، ہمارا یہ انتخاب محبوب کی نزاکت کے حوالے سے آپ کے تمام تصورات کو توڑ دے گا ۔ آپ اسے پڑھئے اور محبوب کی ایک نئی تصویر ملاحظہ کیجئے ۔

آپ کی نازک کمر پر بوجھ پڑتا ہے بہت

بڑھ چلے ہیں حد سے گیسو کچھ انہیں کم کیجئے

حیدر علی آتش

اللہ رے نازکی کہ جواب سلام میں

ہاتھ اس کا اٹھ کے رہ گیا مہندی کے بوجھ سے

ریاضؔ خیرآبادی

ابرو نہ سنوارا کرو کٹ جائے گی انگلی

نادان ہو تلوار سے کھیلا نہیں کرتے

آغا شاعر قزلباش

اللہ رے اس گل کی کلائی کی نزاکت

بل کھا گئی جب بوجھ پڑا رنگ حنا کا

امیر مینائی

محبت پھول بننے پر لگی تھی

پلٹ کر پھر کلی کر لی ہے میں نے

فرحت احساس

خواب میں آنکھیں جو تلووں سے ملیں

بولے اف اف پاؤں میرا چھل گیا

امیر مینائی

نزاکت اس گل رعنا کی دیکھیو انشاؔ

نسیم صبح جو چھو جائے رنگ ہو میلا

انشا اللہ خاں انشا

متعلقہ موضوعات