ADVERTISEMENT

تجاہل پر اشعار

کسی امرسے واقف ہونےکے

باوجود اس سےشعوری طوراپنی لاعلمی کا اظہارکرنا تجاہل کہلاتا ہے۔ تجاہل کلاسیکی شاعری کے معشوق کی خاص صفت ہے۔معشوق عاشق کوسرمجلس دیکھتا بھی ہے،اس کے دکھوں،تکلیفوں اورہجرکےنالوں سےبھی واقف ہوتا ہے لیکن اس کے باوجود اپنی مکمل بے خبری کا اظہارکرتا ہے۔ معشوق کا یہ تجاہل عاشق کے دکھ میں مزید اضافہ کرتا ہے۔عشق کے ان دلچسپ حصوں کی کہانی ہمارے اس انتخاب میں پڑھئے۔

مرا خط اس نے پڑھا پڑھ کے نامہ بر سے کہا

یہی جواب ہے اس کا کوئی جواب نہیں

امیر مینائی
ADVERTISEMENT

بھری دنیا میں فقط مجھ سے نگاہیں نہ چرا

عشق پر بس نہ چلے گا تری دانائی کا

احمد ندیم قاسمی

انہیں تو ستم کا مزا پڑ گیا ہے

کہاں کا تجاہل کہاں کا تغافل

بیخود دہلوی