شہرت پر شاعری

مشہور ہوجانے کی خواہش ہر کسی کی ہوتی ہے لیکن اس خواہش کو غلط طریقوں سے پورا کرنے کی کوشش بہت سی انسانی قدروں کی پائمالی کا باعث بنتی ہے ۔ یہ شعری انتخاب شہرت کی اچھی بری صورتوں کو سامنے لاتا ہے ۔

شہرت کی بلندی بھی پل بھر کا تماشا ہے

جس ڈال پہ بیٹھے ہو وہ ٹوٹ بھی سکتی ہے

بشیر بدر

عشق مجھ کو نہیں وحشت ہی سہی

میری وحشت تری شہرت ہی سہی

مرزا غالب

کسی کو بے سبب شہرت نہیں ملتی ہے اے واحدؔ

انہیں کے نام ہیں دنیا میں جن کے کام اچھے ہیں

واحد پریمی

ہم طالب شہرت ہیں ہمیں ننگ سے کیا کام

بد نام اگر ہوں گے تو کیا نام نہ ہوگا

مصطفیٰ خاں شیفتہ

اب تو دروازے سے اپنے نام کی تختی اتار

لفظ ننگے ہو گئے شہرت بھی گالی ہو گئی

اقبال ساجد

کیا پوچھتے ہو کون ہے یہ کس کی ہے شہرت

کیا تم نے کبھی داغؔ کا دیواں نہیں دیکھا

داغؔ دہلوی

میں اسے شہرت کہوں یا اپنی رسوائی کہوں

مجھ سے پہلے اس گلی میں میرے افسانے گئے

خاطر غزنوی

الجھ رہے ہیں بہت لوگ میری شہرت سے

کسی کو یوں تو کوئی مجھ سے اختلاف نہ تھا

بیکل اتساہی

میری شہرت کے پیچھے ہے

ہاتھ بہت رسوائی کا

پریم بھنڈاری

شہرت کی فضاؤں میں اتنا نہ اڑو ساغرؔ

پرواز نہ کھو جائے ان اونچی اڑانوں میں

ساغرؔ اعظمی

کھلی نہ مجھ پہ بھی دیوانگی مری برسوں

مرے جنون کی شہرت ترے بیاں سے ہوئی

فراغ روہوی

بکتا رہتا سر بازار کئی قسطوں میں

شکر ہے میرے خدا نے مجھے شہرت نہیں دی

احمد اشفاق

اس گھر کی بدولت مرے شعروں کو ہے شہرت

وہ گھر کہ جو اس شہر میں بد نام بہت ہے

مظہر امام

اپنے افسانے کی شہرت اسے منظور نہ تھی

اس نے کردار بدل کر مرا قصہ لکھا

شین کاف نظام

میاں یہ چادر شہرت تم اپنے پاس رکھو

کہ اس سے پاؤں جو ڈھانپیں تو سر نکلتا ہے

محمد مختار علی

گھر سے اس کا بھی نکلنا ہو گیا آخر محال

میری رسوائی سے شہرت کو بہ کو اس کی بھی تھی

ظہور نظر

وہ جنوں کو بڑھائے جائیں گے

ان کی شہرت ہے میری رسوائی

سلیم احمد

مجھ سے یہ پوچھ رہے ہیں مرے احباب عزیزؔ

کیا ملا شہر سخن میں تمہیں شہرت کے سوا

عزیز وارثی

کون مصلوب ہوا حسن کا کردار کہ ہم

شہرت عشق میں بدنام ہوا یار کہ ہم

مسعود قریشی

فرحتؔ ترے نغموں کی وہ شہرت ہے جہاں میں

واللہ ترا رنگ سخن یاد رہے گا

فرحت کانپوری

کھو دیا شہرت نے اپنی شعر خوانی کا مزا

داد مل جاتی ہے ناطقؔ ہر رطب یابس کے بعد

ناطق گلاوٹھی