Khatir Ghaznavi's Photo'

خاطر غزنوی

1925 - 2008 | پیشاور, پاکستان

اپنی غزل ’گو ذرا سی بات پر برسوں کے یارانے گئے‘ کے لیے مشہور، جسے کئی گایکوں نے آواز دی ہے

اپنی غزل ’گو ذرا سی بات پر برسوں کے یارانے گئے‘ کے لیے مشہور، جسے کئی گایکوں نے آواز دی ہے

غزل 21

اشعار 16

گو ذرا سی بات پر برسوں کے یارانے گئے

لیکن اتنا تو ہوا کچھ لوگ پہچانے گئے

میں اسے شہرت کہوں یا اپنی رسوائی کہوں

مجھ سے پہلے اس گلی میں میرے افسانے گئے

کیسی چلی ہے اب کے ہوا تیرے شہر میں

بندے بھی ہو گئے ہیں خدا تیرے شہر میں

اک تجسس دل میں ہے یہ کیا ہوا کیسے ہوا

جو کبھی اپنا نہ تھا وہ غیر کا کیسے ہوا

وحشتیں کچھ اس طرح اپنا مقدر بن گئیں

ہم جہاں پہنچے ہمارے ساتھ ویرانے گئے

پہیلی 3

 

کتاب 5

ایک کمرہ

 

2001

خواب در خواب

 

1996

خواب در خواب

 

1985

ننھے منوں کے لئے ننھی منی نظمیں

 

1968

شمارہ نمبر-000

 

 

تصویری شاعری 4

جب اس زلف کی بات چلی ڈھلتے ڈھلتے رات ڈھلی ان آنکھوں نے لوٹ کے بھی اپنے اوپر بات نہ لی شمع کا انجام نہ پوچھ پروانوں کے ساتھ جلی اب کے بھی وہ دور رہے اب کے بھی برسات چلی خاطرؔ یہ ہے بازئ_دل اس میں جیت سے مات بھلی

 

ویڈیو 9

This video is playing from YouTube

ویڈیو کا زمرہ
دیگر
Tujhse milkar isqadar apno se begaane hue

مہدی حسن

گو ذرا سی بات پر برسوں کے یارانے گئے

نامعلوم

گو ذرا سی بات پر برسوں کے یارانے گئے

فریدہ خانم

گو ذرا سی بات پر برسوں کے یارانے گئے

مہدی حسن

گو ذرا سی بات پر برسوں کے یارانے گئے

تاری خان

کیسی چلی ہے اب کے ہوا تیرے شہر میں

غلام علی

گو ذرا سی بات پر برسوں کے یارانے گئے

راج کمار رضوی

آڈیو 10

آرزوئیں نارسائی روبرو میں اور تو

اک تجسس دل میں ہے یہ کیا ہوا کیسے ہوا

پہلی محبتوں کے زمانے گزر گئے

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI

مزید دیکھیے

"پیشاور" کے مزید شعرا

  • نذیر تبسم نذیر تبسم
  • شارق جمال شارق جمال
  • رضا ہمدانی رضا ہمدانی
  • اسحاق وردگ اسحاق وردگ
  • تاج سعید تاج سعید
  • نرجس افروز زیدی نرجس افروز زیدی