گو ذرا سی بات پر برسوں کے یارانے گئے

خاطر غزنوی

گو ذرا سی بات پر برسوں کے یارانے گئے

خاطر غزنوی

MORE BYخاطر غزنوی

    گو ذرا سی بات پر برسوں کے یارانے گئے

    لیکن اتنا تو ہوا کچھ لوگ پہچانے گئے

    گرمئ محفل فقط اک نعرۂ مستانہ ہے

    اور وہ خوش ہیں کہ اس محفل سے دیوانے گئے

    میں اسے شہرت کہوں یا اپنی رسوائی کہوں

    مجھ سے پہلے اس گلی میں میرے افسانے گئے

    وحشتیں کچھ اس طرح اپنا مقدر بن گئیں

    ہم جہاں پہنچے ہمارے ساتھ ویرانے گئے

    یوں تو وہ میری رگ جاں سے بھی تھے نزدیک تر

    آنسوؤں کی دھند میں لیکن نہ پہچانے گئے

    اب بھی ان یادوں کی خوشبو ذہن میں محفوظ ہے

    بارہا ہم جن سے گلزاروں کو مہکانے گئے

    کیا قیامت ہے کہ خاطرؔ کشتۂ شب تھے بھی ہم

    صبح بھی آئی تو مجرم ہم ہی گردانے گئے

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    راج کمار رضوی

    راج کمار رضوی

    نامعلوم

    نامعلوم

    مہدی حسن

    مہدی حسن

    تاری خان

    تاری خان

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    گو ذرا سی بات پر برسوں کے یارانے گئے نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY