ADVERTISEMENT

بچپن شاعری پر اشعار

فن کارکی سب سے بڑی قوت

اس کا تخیل ہوتا ہے ۔ وہ اسی کے سہارے نئے جہانوں کی سیرکرتا ہے اورگزرے ہوئے وقت کی کیفیتوں کو پوری شدت کے ساتھ تخلیقی بساط پر پھیلاتا ہے ۔ بچپن ، اس کےجذبات واحساسات اوراس کی معصومیت کا جوایک سچا اظہار شاعری میں نظرآتا ہے اس کی وجہ بھی یہی ہے ۔ ہم بچپن اوراس کی کیفیتوں کومحسوس کرسکتے ہیں لیکن زبان نہیں دے سکتے ، بچپن کو موضوع بنانے والی یہ شاعری ہمارے اسی عجز کا بدل ہے ۔

بچوں کے چھوٹے ہاتھوں کو چاند ستارے چھونے دو

چار کتابیں پڑھ کر یہ بھی ہم جیسے ہو جائیں گے

ندا فاضلی

اڑنے دو پرندوں کو ابھی شوخ ہوا میں

پھر لوٹ کے بچپن کے زمانے نہیں آتے

بشیر بدر

میرا بچپن بھی ساتھ لے آیا

گاؤں سے جب بھی آ گیا کوئی

کیفی اعظمی

میرے رونے کا جس میں قصہ ہے

عمر کا بہترین حصہ ہے

جوشؔ ملیح آبادی
ADVERTISEMENT

دعائیں یاد کرا دی گئی تھیں بچپن میں

سو زخم کھاتے رہے اور دعا دئیے گئے ہم

افتخار عارف

فرشتے آ کر ان کے جسم پر خوشبو لگاتے ہیں

وہ بچے ریل کے ڈبوں میں جو جھاڑو لگاتے ہیں

منور رانا

کتابوں سے نکل کر تتلیاں غزلیں سناتی ہیں

ٹفن رکھتی ہے میری ماں تو بستہ مسکراتا ہے

سراج فیصل خان

جمالؔ ہر شہر سے ہے پیارا وہ شہر مجھ کو

جہاں سے دیکھا تھا پہلی بار آسمان میں نے

جمال احسانی
ADVERTISEMENT

ہم تو بچپن میں بھی اکیلے تھے

صرف دل کی گلی میں کھیلے تھے

جاوید اختر

بھوک چہروں پہ لیے چاند سے پیارے بچے

بیچتے پھرتے ہیں گلیوں میں غبارے بچے

بیدل حیدری

چپ چاپ بیٹھے رہتے ہیں کچھ بولتے نہیں

بچے بگڑ گئے ہیں بہت دیکھ بھال سے

عادل منصوری

بڑی حسرت سے انساں بچپنے کو یاد کرتا ہے

یہ پھل پک کر دوبارہ چاہتا ہے خام ہو جائے

نشور واحدی
ADVERTISEMENT

میں بچپن میں کھلونے توڑتا تھا

مرے انجام کی وہ ابتدا تھی

جاوید اختر

بچپن میں ہم ہی تھے یا تھا اور کوئی

وحشت سی ہونے لگتی ہے یادوں سے

عبد الاحد ساز

اب تک ہماری عمر کا بچپن نہیں گیا

گھر سے چلے تھے جیب کے پیسے گرا دیے

نشتر خانقاہی

اسیر پنجۂ عہد شباب کر کے مجھے

کہاں گیا مرا بچپن خراب کر کے مجھے

مضطر خیرآبادی
ADVERTISEMENT

فقط مال و زر دیوار و در اچھا نہیں لگتا

جہاں بچے نہیں ہوتے وہ گھر اچھا نہیں لگتا

عباس تابش

اک کھلونا جوگی سے کھو گیا تھا بچپن میں

ڈھونڈھتا پھرا اس کو وہ نگر نگر تنہا

جاوید اختر

کون کہے معصوم ہمارا بچپن تھا

کھیل میں بھی تو آدھا آدھا آنگن تھا

شارق کیفی

ایک ہاتھی ایک راجہ ایک رانی کے بغیر

نیند بچوں کو نہیں آتی کہانی کے بغیر

مقصود بستوی
ADVERTISEMENT

اپنے بچوں کو میں باتوں میں لگا لیتا ہوں

جب بھی آواز لگاتا ہے کھلونے والا

راشد راہی

کھلونوں کی دکانو راستا دو

مرے بچے گزرنا چاہتے ہیں

نامعلوم

جس کے لئے بچہ رویا تھا اور پونچھے تھے آنسو بابا نے

وہ بچہ اب بھی زندہ ہے وہ مہنگا کھلونا ٹوٹ گیا

محشر بدایونی

یہ زندگی کچھ بھی ہو مگر اپنے لئے تو

کچھ بھی نہیں بچوں کی شرارت کے علاوہ

عباس تابش
ADVERTISEMENT

محلے والے میرے کار بے مصرف پہ ہنستے ہیں

میں بچوں کے لیے گلیوں میں غبارے بناتا ہوں

سلیم احمد

ساتوں عالم سر کرنے کے بعد اک دن کی چھٹی لے کر

گھر میں چڑیوں کے گانے پر بچوں کی حیرانی دیکھو

شجاع خاور