تاج محل

ساحر لدھیانوی

تاج محل

ساحر لدھیانوی

MORE BY ساحر لدھیانوی

    INTERESTING FACT

    Film: Ghazal 1964

    تاج تیرے لیے اک مظہر الفت ہی سہی

    تجھ کو اس وادیٔ رنگیں سے عقیدت ہی سہی

    میری محبوب کہیں اور ملا کر مجھ سے

    بزم شاہی میں غریبوں کا گزر کیا معنی

    ثبت جس راہ میں ہوں سطوت شاہی کے نشاں

    اس پہ الفت بھری روحوں کا سفر کیا معنی

    میری محبوب پس پردہ تشہیر وفا

    تو نے سطوت کے نشانوں کو تو دیکھا ہوتا

    مردہ شاہوں کے مقابر سے بہلنے والی

    اپنے تاریک مکانوں کو تو دیکھا ہوتا

    ان گنت لوگوں نے دنیا میں محبت کی ہے

    کون کہتا ہے کہ صادق نہ تھے جذبے ان کے

    لیکن ان کے لیے تشہیر کا سامان نہیں

    کیونکہ وہ لوگ بھی اپنی ہی طرح مفلس تھے

    یہ عمارات و مقابر یہ فصیلیں یہ حصار

    مطلق الحکم شہنشاہوں کی عظمت کے ستوں

    سینۂ دہر کے ناسور ہیں کہنہ ناسور

    جذب ہے ان میں ترے اور مرے اجداد کا خوں

    میری محبوب انہیں بھی تو محبت ہوگی

    جن کی صناعی نے بخشی ہے اسے شکل جمیل

    ان کے پیاروں کے مقابر رہے بے نام و نمود

    آج تک ان پہ جلائی نہ کسی نے قندیل

    یہ چمن زار یہ جمنا کا کنارہ یہ محل

    یہ منقش در و دیوار یہ محراب یہ طاق

    اک شہنشاہ نے دولت کا سہارا لے کر

    ہم غریبوں کی محبت کا اڑایا ہے مذاق

    میری محبوب کہیں اور ملا کر مجھ سے

    RECITATIONS

    حمیدہ بانو

    حمیدہ بانو

    حمیدہ بانو

    تاج محل حمیدہ بانو

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Added to your favorites

    Removed from your favorites