دل ہجر کے درد سے بوجھل ہے اب آن ملو تو بہتر ہو

ابن انشا

دل ہجر کے درد سے بوجھل ہے اب آن ملو تو بہتر ہو

ابن انشا

MORE BYابن انشا

    دل ہجر کے درد سے بوجھل ہے اب آن ملو تو بہتر ہو

    اس بات سے ہم کو کیا مطلب یہ کیسے ہو یہ کیوں کر ہو

    اک بھیک کے دونوں کاسے ہیں اک پیاس کے دونو پیاسے ہیں

    ہم کھیتی ہیں تم بادل ہو ہم ندیاں ہیں تم ساگر ہو

    یہ دل ہے کہ جلتے سینے میں اک درد کا پھوڑا الہڑ سا

    نا گپت رہے نا پھوٹ بہے کوئی مرہم ہو کوئی نشتر ہو

    ہم سانجھ سمے کی چھایا ہیں تم چڑھتی رات کے چندرماں

    ہم جاتے ہیں تم آتے ہو پھر میل کی صورت کیوں کر ہو

    اب حسن کا رتبہ عالی ہے اب حسن سے صحرا خالی ہے

    چل بستی میں بنجارہ بن چل نگری میں سوداگر ہو

    جس چیز سے تجھ کو نسبت ہے جس چیز کی تجھ کو چاہت ہے

    وہ سونا ہے وہ ہیرا ہے وہ ماٹی ہو یا کنکر ہو

    اب انشاؔ جی کو بلانا کیا اب پیار کے دیپ جلانا کیا

    جب دھوپ اور چھایا ایک سے ہوں جب دن اور رات برابر ہو

    وہ راتیں چاند کے ساتھ گئیں وہ باتیں چاند کے ساتھ گئیں

    اب سکھ کے سپنے کیا دیکھیں جب دکھ کا سورج سر پر ہو

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    دل ہجر کے درد سے بوجھل ہے اب آن ملو تو بہتر ہو نعمان شوق

    موضوعات :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY