وہ ہنس ہنس کے وعدے کیے جا رہے ہیں

ماہر القادری

وہ ہنس ہنس کے وعدے کیے جا رہے ہیں

ماہر القادری

MORE BYماہر القادری

    وہ ہنس ہنس کے وعدے کیے جا رہے ہیں

    فریب تمنا دیے جا رہے ہیں

    ترا نام لے کر جیے جا رہے ہیں

    گناہ محبت کیے جا رہے ہیں

    مرے زخم دل کا مقدر تو دیکھو

    نگاہوں سے ٹانکے دیے جا رہے ہیں

    نہ کالی گھٹائیں نہ پھولوں کا موسم

    مگر پینے والے پیے جا رہے ہیں

    تری محفل ناز سے اٹھنے والے

    نگاہوں میں تجھ کو لیے جا رہے ہیں

    مرے شوق دیدار کا حال سن کر

    قیامت کے وعدے کیے جا رہے ہیں

    حریم تجلی میں ذوق نظر ہے

    نگاہوں سے سجدے کیے جا رہے ہیں

    ابھی ہے اسیری کا آغاز ماہرؔ

    ابھی تو فقط پر سیے جا رہے ہیں

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    وہ ہنس ہنس کے وعدے کیے جا رہے ہیں نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY