ماہر القادری کا تعارف
تخلص : 'ماہر'
اصلی نام : منظور حسین قادری
پیدائش : 30 Jul 1906 | بلند شہر, اتر پردیش
وفات : 12 May 1978 | سعودیہ عربیہ
اک بار تجھے عقل نے چاہا تھا بھلانا
سو بار جنوں نے تری تصویر دکھا دی
EXPLANATION #1
اس شعر میں وارداتِ عشق کو عقل اور جنوں کے پیمانوں میں تولنے کا پہلو بہت دلچسپ ہے۔ عشق کے معاملے میں عقل اور جنوں کی کشمکش ازلی ہے۔ جہاں عقل عشق کو انسانی حیات کے لئے ایک وجہِ زیاں مانتی ہے وہیں جنوں عشق کو انسانی حیات کا لبِ لباب مانتی ہے۔ اور اگر عشق میں جنوں پر عقل غالب آگئی تو عشق عشق نہیں رہتا ۔ کیونکہ عشق کی اولین شرط جنوں ہے۔ اور جنوں کی آماجگاہ دل ہے۔ اس لئے اگر عاشق دل کے بجائے عقل کی سنے تو وہ اپنے مقصد میں کبھی کامیاب نہیں ہوگا۔
شاعر یہ کہنا چاہتا ہے کہ میں اپنے محبوب کے عشق میں اس قدر مجنوں ہوگیا ہوں کہ اسے بھلانے کے لئے عقل نے ایک بار ٹھان لی تھی مگر میرے جنونِ عشق نے مجھے سو بار اپنے محبوب کی تصویر دکھا دی۔ ’تصویر دکھا‘ بھی خوب ہے۔ کیونکہ جنوں کی کیفیت میں انسان ایک ایسی کیفیت سے دوچار ہوجاتا ہے جب اس کی آنکھوں کے سامنے کچھ چیزیں دکھائی دیتی ہیں جو اگر چہ وہاں موجود نہیں ہوتی ہیں مگر اس نوع کے جنوں میں مبتلا انسان انہیں حقیقت سمجھتا ہے۔ شعر اپنی کیفیت کے اعتبار سے بہت دلچسپ ہے۔
شفق سوپوری
EXPLANATION #1
اس شعر میں وارداتِ عشق کو عقل اور جنوں کے پیمانوں میں تولنے کا پہلو بہت دلچسپ ہے۔ عشق کے معاملے میں عقل اور جنوں کی کشمکش ازلی ہے۔ جہاں عقل عشق کو انسانی حیات کے لئے ایک وجہِ زیاں مانتی ہے وہیں جنوں عشق کو انسانی حیات کا لبِ لباب مانتی ہے۔ اور اگر عشق میں جنوں پر عقل غالب آگئی تو عشق عشق نہیں رہتا ۔ کیونکہ عشق کی اولین شرط جنوں ہے۔ اور جنوں کی آماجگاہ دل ہے۔ اس لئے اگر عاشق دل کے بجائے عقل کی سنے تو وہ اپنے مقصد میں کبھی کامیاب نہیں ہوگا۔
شاعر یہ کہنا چاہتا ہے کہ میں اپنے محبوب کے عشق میں اس قدر مجنوں ہوگیا ہوں کہ اسے بھلانے کے لئے عقل نے ایک بار ٹھان لی تھی مگر میرے جنونِ عشق نے مجھے سو بار اپنے محبوب کی تصویر دکھا دی۔ ’تصویر دکھا‘ بھی خوب ہے۔ کیونکہ جنوں کی کیفیت میں انسان ایک ایسی کیفیت سے دوچار ہوجاتا ہے جب اس کی آنکھوں کے سامنے کچھ چیزیں دکھائی دیتی ہیں جو اگر چہ وہاں موجود نہیں ہوتی ہیں مگر اس نوع کے جنوں میں مبتلا انسان انہیں حقیقت سمجھتا ہے۔ شعر اپنی کیفیت کے اعتبار سے بہت دلچسپ ہے۔
شفق سوپوری
ماہر القادری ایک بہترین نثر نگار اور کلاسیکی طرز کے شاعر کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ ان کا اصل نام منظور حسین تھا۔ 30 جولائی 1906 کو کیسر کلاں، ضلع بلند شہر میں پیدا ہوئے۔ 1926 میں علی گڑھ سے میٹرک کرنے کے بعد بجنور سے نکلنے والے مشہور اخبار ’مدینہ‘ سے وابستہ ہوگئے۔ ’مدینہ‘ کے علاوہ بھی کئی اخبارات اور رسائل کی ادارت کی۔ ممبئی میں قیام کے دوران فلموں کے لیے نغمے بھی لکھے۔ تقسیمِ ہند کے بعد پاکستان چلے گئے اور کراچی سے ماہنامہ ’فاران‘ جاری کیا، جو بہت جلد اُس عہد کے بہترین ادبی رسالوں میں شمار ہونے لگا۔
ماہر القادری نے تنقید، تبصرہ، سوانح، ناول کے علاوہ کئی دیگر نثری اصناف میں بھی لکھا۔ ان کی نثری تحریریں اپنی شگفتگی اور رواں اسلوبِ بیان کی وجہ سے آج بھی دلچسپی سے پڑھی جاتی ہیں۔ ماہر القادری کی بیس سے زائد کتابیں شائع ہوئیں۔ ان کی چند اہم کتابوں کے نام یہ ہیں: آتشِ خاموش، شیرازہ، محسوساتِ ماہر، نغماتِ ماہر، جذباتِ ماہر، کاروانِ حجاز، زخم و مرہم، یادِ رفتگاں، فردوس، اور طلسمِ حیات۔
12 مئی 1978 کو جدہ میں ایک مشاعرے کے دوران حرکتِ قلب بند ہوجانے سے ان کا انتقال ہوا۔