چشم نم پر مسکرا کر چل دیئے

ماہر القادری

چشم نم پر مسکرا کر چل دیئے

ماہر القادری

MORE BY ماہر القادری

    چشم نم پر مسکرا کر چل دیئے

    آگ پانی میں لگا کر چل دیئے

    ساری محفل لڑکھڑاتی رہ گئی

    مست آنکھوں سے پلا کر چل دیئے

    گرد منزل آج تک ہے بے قرار

    اک قیامت ہی اٹھا کر چل دیئے

    میری امیدوں کی دنیا ہل گئی

    ناز سے دامن بچا کر چل دیئے

    مختلف انداز سے دیکھا کئے

    سب کی نظریں آزما کر چل دیئے

    گلستاں میں آپ آئے بھی تو کیا

    چند کلیوں کو ہنسا کر چل دیئے

    وجد میں آ کر ہوائیں رہ گئیں

    زیر لب کچھ گنگنا کر چل دیئے

    وہ فضا وہ چودھویں کی چاندنی

    حسن کی شبنم گرا کر چل دیئے

    وہ تبسم وہ ادائیں وہ نگاہ

    سب کو دیوانہ بنا کر چل دیئے

    کچھ خبر ان کی بھی ہے ماہرؔ تمہیں

    آپ تو غزلیں سنا کر چل دیئے

    مآخذ:

    • کتاب : urdu ki chuninda gazle.n (Pg. 48)
    • مطبع : sahityaa parkaashak maalbaara delhi (sahityaa parkaashak maalbaara delhi )
    • اشاعت : 1963
    • کتاب : urdu ki chuninda gazle.n (Pg. 48)
    • مطبع : sahityaa parkaashak maalbaara delhi (sahityaa parkaashak maalbaara delhi )

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY