بارش ہوئی تو پھولوں کے تن چاک ہو گئے

پروین شاکر

بارش ہوئی تو پھولوں کے تن چاک ہو گئے

پروین شاکر

MORE BYپروین شاکر

    بارش ہوئی تو پھولوں کے تن چاک ہو گئے

    موسم کے ہاتھ بھیگ کے سفاک ہو گئے

    بادل کو کیا خبر ہے کہ بارش کی چاہ میں

    کیسے بلند و بالا شجر خاک ہو گئے

    جگنو کو دن کے وقت پرکھنے کی ضد کریں

    بچے ہمارے عہد کے چالاک ہو گئے

    لہرا رہی ہے برف کی چادر ہٹا کے گھاس

    سورج کی شہ پہ تنکے بھی بے باک ہو گئے

    بستی میں جتنے آب گزیدہ تھے سب کے سب

    دریا کے رخ بدلتے ہی تیراک ہو گئے

    سورج دماغ لوگ بھی ابلاغ فکر میں

    زلف شب فراق کے پیچاک ہو گئے

    جب بھی غریب شہر سے کچھ گفتگو ہوئی

    لہجے ہوائے شام کے نمناک ہو گئے

    RECITATIONS

    صبیحہ خان

    صبیحہ خان,

    صبیحہ خان

    بارش ہوئی تو پھولوں کے تن چاک ہو گئے صبیحہ خان

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

    GET YOUR FREE PASS
    بولیے