آج کی شب تو کسی طور گزر جائے گی

پروین شاکر

آج کی شب تو کسی طور گزر جائے گی

پروین شاکر

MORE BYپروین شاکر

    آج کی شب تو کسی طور گزر جائے گی

    رات گہری ہے مگر چاند چمکتا ہے ابھی

    میرے ماتھے پہ ترا پیار دمکتا ہے ابھی

    میری سانسوں میں ترا لمس مہکتا ہے ابھی

    میرے سینے میں ترا نام دھڑکتا ہے ابھی

    زیست کرنے کو مرے پاس بہت کچھ ہے ابھی

    تیری آواز کا جادو ہے ابھی میرے لیے

    تیرے ملبوس کی خوشبو ہے ابھی میرے لیے

    تیری بانہیں ترا پہلو ہے ابھی میرے لیے

    سب سے بڑھ کر مری جاں تو ہے ابھی میرے لیے

    زیست کرنے کو مرے پاس بہت کچھ ہے ابھی

    آج کی شب تو کسی طور گزر جائے گی!

    آج کے بعد مگر رنگ وفا کیا ہوگا

    عشق حیراں ہے سر شہر صبا کیا ہوگا

    میرے قاتل ترا انداز جفا کیا ہوگا!

    آج کی شب تو بہت کچھ ہے مگر کل کے لیے

    ایک اندیشۂ بے نام ہے اور کچھ بھی نہیں

    دیکھنا یہ ہے کہ کل تجھ سے ملاقات کے بعد

    رنگ امید کھلے گا کہ بکھر جائے گا

    وقت پرواز کرے گا کہ ٹھہر جائے گا

    جیت ہو جائے گی یا کھیل بگڑ جائے گا

    خواب کا شہر رہے گا کہ اجڑ جائے گا

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    نامعلوم

    نامعلوم

    مأخذ :
    • کتاب : kulliyaat-e-maahe tamaam(khushbo) (Pg. 105)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے