دھنک دھنک مری پوروں کے خواب کر دے گا

پروین شاکر

دھنک دھنک مری پوروں کے خواب کر دے گا

پروین شاکر

MORE BY پروین شاکر

    دھنک دھنک مری پوروں کے خواب کر دے گا

    وہ لمس میرے بدن کو گلاب کر دے گا

    قبائے جسم کے ہر تار سے گزرتا ہوا

    کرن کا پیار مجھے آفتاب کر دے گا

    جنوں پسند ہے دل اور تجھ تک آنے میں

    بدن کو ناؤ لہو کو چناب کر دے گا

    میں سچ کہوں گی مگر پھر بھی ہار جاؤں گی

    وہ جھوٹ بولے گا اور لا جواب کر دے گا

    انا پرست ہے اتنا کہ بات سے پہلے

    وہ اٹھ کے بند مری ہر کتاب کر دے گا

    سکوت شہر سخن میں وہ پھول سا لہجہ

    سماعتوں کی فضا خواب خواب کر دے گا

    اسی طرح سے اگر چاہتا رہا پیہم

    سخن وری میں مجھے انتخاب کر دے گا

    مری طرح سے کوئی ہے جو زندگی اپنی

    تمہاری یاد کے نام انتساب کر دے گا

    Tagged Under

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY