ADVERTISEMENT

انتظار پر دوہے

انتظار کی کیفیت زندگی

کی سب سے زیادہ تکلیف دہ کیفیتوں میں سے ایک ہوتی ہےاوریہ کیفیت شاعری کےعاشق کا مقدر ہے وہ ہمیشہ سے اپنے محبوب کے انتطار میں لگا بیٹھا ہے اور اس کا محبوب انتہائی درجے کا جفا پیشہ ،خود غرض ، بے وفا ، وعدہ خلاف اوردھوکے باز ہے ۔ عشق کے اس طے شدہ منظرنامے نے بہت پراثر شاعری پیدا کی ہے اور انتظار کے دکھ کو ایک لازوال دکھ میں تبدیل کر دیا ہے ۔ ہمارا یہ انتخاب پڑھئے اور انتظار کی ان کفیتوں کو محسوس کیجئے ۔

نینوں میں تھا راستہ ہردے میں تھا گاؤں

ہوئی نہ پوری یاترا چھلنی ہو گئے پاؤں

ندا فاضلی
ADVERTISEMENT

نیند کو روکنا مشکل تھا پر جاگ کے کاٹی رات

سوتے میں آ جاتے وہ تو نیچی ہوتی بات

جمیل الدین عالی