میر تقی میر اور روزمرہ کی زبان کا تخلیقی اعجاز
میر تقی میر کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے عام بول چال اور روزمرہ کی زبان کو استعارے اور رعایت کے ذریعے عظیم شاعری کی زبان میں بدل دیا۔
aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
نازکی اس کے لب کی کیا کہئے
پنکھڑی اک گلاب کی سی ہے
راہ دور عشق میں روتا ہے کیا
آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا
پتا پتا بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہے
جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے باغ تو سارا جانے ہے
اب تو جاتے ہیں بت کدے سے میرؔ
پھر ملیں گے اگر خدا لایا
جن کے لیے اپنے تو یوں جان نکلتے ہیں اس راہ میں وے جیسے انجان نکلتے ہیں کیا تیر_ستم اس کے سینے میں بھی ٹوٹے تھے جس زخم کو چیروں ہوں پیکان نکلتے ہیں مت سہل ہمیں جانو پھرتا ہے فلک برسوں تب خاک کے پردے سے انسان نکلتے ہیں کس کا ہے قماش ایسا گودڑ بھرے ہیں سارے دیکھو نہ جو لوگوں کے دیوان نکلتے ہیں گہ لوہو ٹپکتا ہے گہ لخت_دل آنکھوں سے یا ٹکڑے جگر ہی کے ہر آن نکلتے ہیں کریے تو گلہ کس سے جیسی تھی ہمیں خواہش اب ویسے ہی یہ اپنے ارمان نکلتے ہیں جاگہ سے بھی جاتے ہو منہ سے بھی خشن ہو کر وے حرف نہیں ہیں جو شایان نکلتے ہیں سو کاہے کو اپنی تو جوگی کی سی پھیری ہے برسوں میں کبھو ایدھر ہم آن نکلتے ہیں ان آئینہ_رویوں کے کیا میرؔ بھی عاشق ہیں جب گھر سے نکلتے ہیں حیران نکلتے ہیں
کچھ کرو فکر مجھ دوانے کی دھوم ہے پھر بہار آنے کی دل کا اس کنج_لب سے دے ہے نشاں بات لگتی تو ہے ٹھکانے کی وہ جو پھرتا ہے مجھ سے دور ہی دور ہے یہ تقریب جی کے جانے کی تیز یوں ہی نہ تھی شب آتش_شوق تھی خبر گرم اس کے آنے کی خضر اس خط_سبز پر تو موا دھن ہے اب اپنے زہر کھانے کی دل_صد_چاک باب_زلف ہے لیک باؤ سی بندھ رہی ہے شانے کی کسو کم_ظرف نے لگائی آہ تجھ سے مے_خانے کے جلانے کی ورنہ اے شیخ_شہر واجب تھی جام_داری شراب_خانے کی جو ہے سو پائمال_غم ہے میرؔ چال بے_ڈول ہے زمانے کی
میر تقی میر کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے عام بول چال اور روزمرہ کی زبان کو استعارے اور رعایت کے ذریعے عظیم شاعری کی زبان میں بدل دیا۔
غالب نے جان بوجھ کر اپنے ہم عصروں اور میر تقی میر کی روایات سے ہٹ کر ایک پیچیدہ اسلوب اپنایا، جس کی بنیادی وجہ ان کی انفرادیت پسندی اور جاگیردارانہ انا تھی۔
میر تقی میر کو 'خدائے سخن' کیوں کہا جاتا ہے؟ یہ خطاب محض ایک تعریف نہیں ہے، بلکہ شاعری کی تمام اصناف پر میر کی مکمل مہارت کا ثبوت ہے۔
مرزا غالب
نظیر اکبرآبادی
مصحفی غلام ہمدانی
میر حسن
شیخ ظہور الدین حاتم
حیدر علی آتش
اختر انصاری
اکبر الہ آبادی
صوفی غلام مصطفےٰ تبسم
شیخ ابراہیم ذوقؔ
فراق گورکھپوری
انشا اللہ خاں انشا
یگانہ چنگیزی
بہزاد لکھنوی
عبید الرحمان
قائم چاندپوری
رشید لکھنوی
جرأت قلندر بخش
پنڈت دیا شنکر نسیم لکھنوی
ساحر دہلوی