noImage

قائم چاندپوری

1725 - 1794 | فیض آباد, ہندوستان

اٹھارہویں صدی کے ممتاز شاعر، میر تقی میر کے ہم عصر

اٹھارہویں صدی کے ممتاز شاعر، میر تقی میر کے ہم عصر

قائم چاندپوری

غزل 87

اشعار 89

قسمت تو دیکھ ٹوٹی ہے جا کر کہاں کمند

کچھ دور اپنے ہاتھ سے جب بام رہ گیا

دنیا میں ہم رہے تو کئی دن پہ اس طرح

دشمن کے گھر میں جیسے کوئی میہماں رہے

کس بات پر تری میں کروں اعتبار ہائے

اقرار یک طرف ہے تو انکار یک طرف

چاہیں ہیں یہ ہم بھی کہ رہے پاک محبت

پر جس میں یہ دوری ہو وہ کیا خاک محبت

کب میں کہتا ہوں کہ تیرا میں گنہ گار نہ تھا

لیکن اتنی تو عقوبت کا سزا وار نہ تھا

  • شیئر کیجیے

قطعہ 1

 

کتاب 11

دیوان قائم

 

1953

دیوان قائم

 

1905

انتخاب غزلیات قائم چاند پوری

 

1983

انتخاب کلام

 

1970

انتخاب کلام

 

1970

کلیات قائم

جلد۔002

1965

کلیات قائم

جلد۔001

1965

قائم چاند پوری

انتخاب

1963

قائم چاند پوری حیات وخدمات

 

2011

تذکرہ مخزن نکات

 

1966

آڈیو 8

تیری زباں سے خستہ کوئی زار ہے کوئی

درد پی لیتے ہیں اور داغ پچا جاتے ہیں

دل پا کے اس کی زلف میں آرام رہ گیا

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI

متعلقہ بلاگ

 

متعلقہ شعرا

  • سراج اورنگ آبادی سراج اورنگ آبادی ہم عصر
  • خواجہ میر درد خواجہ میر درد شاگرد
  • نواب محمد یار خاں امیر نواب محمد یار خاں امیر شاگرد
  • محمد رفیع سودا محمد رفیع سودا شاگرد

"فیض آباد" کے مزید شعرا

  • آغا محمد تقی خان ترقی آغا محمد تقی خان ترقی