noImage

قائم چاندپوری

1725 - 1794 | فیض آباد, ہندوستان

اٹھارہویں صدی کے ممتاز شاعر، میر تقی میر کے ہم عصر

اٹھارہویں صدی کے ممتاز شاعر، میر تقی میر کے ہم عصر

976
Favorite

باعتبار

قسمت تو دیکھ ٹوٹی ہے جا کر کہاں کمند

کچھ دور اپنے ہاتھ سے جب بام رہ گیا

دنیا میں ہم رہے تو کئی دن پہ اس طرح

دشمن کے گھر میں جیسے کوئی میہماں رہے

I did stay in this world but twas in such a way

a guest who in the house of his enemy does stay

کس بات پر تری میں کروں اعتبار ہائے

اقرار یک طرف ہے تو انکار یک طرف

what should I believe of what you say to me

on one hand you refuse on the other you agree

کب میں کہتا ہوں کہ تیرا میں گنہ گار نہ تھا

لیکن اتنی تو عقوبت کا سزا وار نہ تھا

I have sinned against you, I certainly agree

but was I still deserving of such cruelty

آگے مرے نہ غیر سے گو تم نے بات کی

سرکار کی نظر کو تو پہچانتا ہوں میں

though in my presence you did not converse with my foe

dearest, the aspect of your eye, I certainly do know

چاہیں ہیں یہ ہم بھی کہ رہے پاک محبت

پر جس میں یہ دوری ہو وہ کیا خاک محبت

جس مصلے پہ چھڑکئے نہ شراب

اپنے آئین میں وہ پاک نہیں

ظالم تو میری سادہ دلی پر تو رحم کر

روٹھا تھا تجھ سے آپ ہی اور آپ من گیا

قائمؔ میں اختیار کیا شاعری کا عیب

پہنچا نہ کوئی شخص جب اپنے ہنر تلک

پہلے ہی اپنی کون تھی واں قدر و منزلت

پر شب کی منتوں نے ڈبو دی رہی سہی

مے پی جو چاہے آتش دوزخ سے تو نجات

جلتا نہیں وہ عضو جو تر ہو شراب میں

کوئی دن آگے بھی زاہد عجب زمانہ تھا

ہر اک محلہ کی مسجد شراب خانہ تھا

ٹوٹا جو کعبہ کون سی یہ جائے غم ہے شیخ

کچھ قصر دل نہیں کہ بنایا نہ جائے گا

ٹکڑے کئی اک دل کے میں آپس میں سئے ہیں

پھر صبح تلک رونے کے اسباب کئے ہیں

شکوہ نہ بخت سے ہے نے آسماں سے مجھ کو

پہنچی جو کچھ اذیت اپنے گماں سے مجھ کو

مے کی توبہ کو تو مدت ہوئی قائمؔ لیکن

بے طلب اب بھی جو مل جائے تو انکار نہیں

میں دوانا ہوں صدا کا مجھے مت قید کرو

جی نکل جائے گا زنجیر کی جھنکار کے ساتھ

صبح تک تھا وہیں یہ مخلص بھی

آپ رکھتے تھے شب جہاں تشریف

اہل مسجد نے جو کافر مجھے سمجھا تو کیا

ساکن دیر تو جانے ہیں مسلماں مجھ کو

ہر دم آنے سے میں بھی ہوں نادم

کیا کروں پر رہا نہیں جاتا

گندمی رنگ جو ہے دنیا میں

میری چھاتی پہ مونگ دلتا ہے

ہر عضو ہے دل فریب تیرا

کہئے کسے کون سا ہے بہتر

میں ہوں کہ میرے دکھ پہ کوئی چشم تر نہ ہو

مر بھی اگر رہوں تو کسی کو خبر نہ ہوں

سیر اس کوچہ کی کرتا ہوں کہ جبریل جہاں

جا کے بولا کہ بس اب آگے میں جل جاؤں گا

نہ جانے کون سی ساعت چمن سے بچھڑے تھے

کہ آنکھ بھر کے نہ پھر سوئے گلستاں دیکھا

گرم کر دے تو ٹک آغوش میں آ

مارے جاڑے کے ٹھرے بیٹھے ہیں

بنا تھی عیش جہاں کی تمام غفلت پر

کھلی جو آنکھ تو گویا کہ احتلام ہوا

قاضی خبر لے مے کو بھی لکھا ہے واں مباح

رشوت کا ہے جواز تری جس کتاب میں

یاں تلک خوش ہوں امارد سے کہ اے رب کریم

کاش دے حور کے بدلے بھی تو غلماں مجھ کو

پوچھو ہو مجھ سے تم کہ پیے گا بھی تو شراب

ایسا کہاں کا شیخ ہوں یا پارسا ہوں میں

کی وفا کس سے بھلا فاحشۂ دنیا نے

ہے تجھے شوق جو اس قحبہ کی دامادی کا

قائم میں غزل طور کیا ریختہ ورنہ

اک بات لچر سی بزبان دکنی تھی

مجھ بے گنہ کے قتل کا آہنگ کب تلک

آ اب بنائے صلح رکھیں جنگ کب تلک

پہلے ہی گدھا ملے جہاں شیخ

اس کعبہ کو ہے سلام اپنا

شیخ جی کیونکہ معاصی سے بچیں ہم کہ گناہ

ارث ہے اپنی ہم آدم کے اگر پوتے ہیں

جس چشم کو وہ میرا خوش چشم نظر آیا

نرگس کا اسے جلوہ اک پشم نظر آیا

پروانے کی شب کی شام ہوں میں

یا روز کی شمع کی سحر ہوں

سنگ کو آب کریں پل میں ہماری باتیں

لیکن افسوس یہی ہے کہ کہاں سنتے ہو

قائمؔ جو کہیں ہیں فارسی یار

اس سے تو یہ ریختہ ہے بہتر

اے عشق مرے دوش پہ تو بوجھ رکھ اپنا

ہر سر متحمل نہیں اس بار گراں کا

درد دل کیوں کہ کہوں میں اس سے

ہر طرف لوگ گھرے بیٹھے ہیں

دل کو پھانسا ہے ہر اک عضو کی تیرے چھب نے

ہاتھ نے پاؤں نے مکھڑے نے دہن نے لب نے

طرف نے بند کیا ہے ہر اک طرف سے تجھے

طرف نہ پکڑے تو تجھ کو ہیں لے شمار طرف

ہونا تھا زندگی ہی میں منہ شیخ کا سیاہ

اس عمر میں ہے ورنہ مزا کیا خضاب کا

لگائی آگ پانی میں یہ کس کے عکس نے پیارے

کہ ہم دیگر چلی ہیں موج سے دریا میں شمشیریں

ایراد کر نہ پڑھ کے مرا خط کہ یہ تمام

بے ربطیاں ہیں ثمرۂ ہنگام اشتیاق

ترک کر اپنا بھی کہ اس راہ میں

ہر کوئی شایان رفاقت نہیں

معنی نہ آئیں درک میں غیر از وجود لفظ

آرے دلیل راہ حقیقت مجاز ہے

غیر سے ملنا تمہارا سن کے گو ہم چپ رہے

پر سنا ہوگا کہ تم کو اک جہاں نے کیا کہا

تھوڑی سی بات میں قائمؔ کی تو ہوتا ہے خفا

کچھ حرمزدگئیں اپنی بھی تجھے یاد ہیں شیخ