noImage

آغا محمد تقی خان ترقی

1740 | فیض آباد, ہندوستان

غزل 1

 

اشعار 4

دنیا کے جو مزے ہیں ہرگز وہ کم نہ ہوں گے

چرچے یوں ہی رہیں گے افسوس ہم نہ ہوں گے

  • شیئر کیجیے

جسے عشرت کدہ دہر سمجھتا تھا میں

آخر کار وہ اک خواب‌ پریشاں نکلا

  • شیئر کیجیے

یکتائی پے ہے ناز تو اتنا بھی رہے یاد

تم سا مجھے تو تم کو بھی مجھ سا نہ ملے گا

  • شیئر کیجیے

تصویری شاعری 2

دنیا کے جو مزے ہیں ہرگز وہ کم نہ ہوں_گے چرچے یوں_ہی رہیں_گے افسوس ہم نہ ہوں_گے

دنیا کے جو مزے ہیں ہرگز وہ کم نہ ہوں_گے چرچے یوں_ہی رہیں_گے افسوس ہم نہ ہوں_گے

 

متعلقہ شعرا

  • میر سوز میر سوز استاد

"فیض آباد" کے مزید شعرا

  • قائم چاندپوری قائم چاندپوری
  • وفا نیازی وفا نیازی