Meer Taqi Meer's Photo'

میر تقی میر

1722-23 - 1810 | دلی, ہندوستان

اردو کے پہلے عظیم شاعر جنہیں ’ خدائے سخن ‘ کہا جاتا ہے

اردو کے پہلے عظیم شاعر جنہیں ’ خدائے سخن ‘ کہا جاتا ہے

غزل

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیا

شمس الرحمن فاروقی

باتیں ہماری یاد رہیں پھر باتیں ایسی نہ سنیے_گا

شمس الرحمن فاروقی

پتا پتا بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہے

شمس الرحمن فاروقی

جب جنوں سے ہمیں توسل تھا

شمس الرحمن فاروقی

جس سر کو غرور آج ہے یاں تاجوری کا

شمس الرحمن فاروقی

رفتگاں میں جہاں کے ہم بھی ہیں

شمس الرحمن فاروقی

سحر_گہہ‌_عید میں دور_سبو تھا

شمس الرحمن فاروقی

شہر سے یار سوار ہوا جو سواد میں خوب غبار ہے آج

شمس الرحمن فاروقی

عشق میں نے خوف_و_خطر چاہیے

شمس الرحمن فاروقی

میرؔ دریا ہے سنے شعر زبانی اس کی

شمس الرحمن فاروقی

میں کون ہوں اے ہم_نفساں سوختہ_جاں ہوں

شمس الرحمن فاروقی

کچھ موج_ہوا پیچاں اے میرؔ نظر آئی

شمس الرحمن فاروقی

کیا حقیقت کہوں کہ کیا ہے عشق

فہد حسین

ہستی اپنی حباب کی سی ہے

شمس الرحمن فاروقی

آ جائیں ہم نظر جو کوئی دم بہت ہے یاں

احمد محفوظ

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیا

احمد محفوظ

بارے دنیا میں رہو غم_زدہ یا شاد رہو

احمد محفوظ

برنگ_بوئے_گل اس باغ کے ہم آشنا ہوتے

احمد محفوظ

تھا مستعار حسن سے اس کے جو نور تھا

احمد محفوظ

تیرا رخ_مخطط قرآن ہے ہمارا

احمد محفوظ

جس سر کو غرور آج ہے یاں تاجوری کا

احمد محفوظ

جو اس شور سے میرؔ روتا رہے_گا

احمد محفوظ

جیتے_جی کوچۂ_دل_دار سے جایا نہ گیا

احمد محفوظ

دیکھ تو دل کہ جاں سے اٹھتا ہے

نعمان شوق

منہ تکا ہی کرے ہے جس تس کا

احمد محفوظ

کچھ موج_ہوا پیچاں اے میرؔ نظر آئی

احمد محفوظ

ہستی اپنی حباب کی سی ہے

احمد محفوظ

ہم آپ ہی کو اپنا مقصود جانتے ہیں

احمد محفوظ

ہمارے آگے ترا جب کسو نے نام لیا

احمد محفوظ

غم رہا جب تک کہ دم میں دم رہا

فصیح اکمل

میریات

اپنے ہوتے تو با عتاب رہا

شمس الرحمن فاروقی

ان بلاؤں سے کب رہائی ہے

شمس الرحمن فاروقی

اے مجھ سے تجھ کو سو ملے تجھ سا نہ پایا ایک میں

شمس الرحمن فاروقی

پتا پتا بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہے

شمس الرحمن فاروقی

جمع افگنی سے ان نے ترکش کیے ہیں خالی

شمس الرحمن فاروقی

چلتے ہو تو چمن کو چلیے کہتے ہیں کہ بہاراں ہے

شمس الرحمن فاروقی

دل کو کہیں لگنے دو میرے کیا کیا رنگ دکھاؤں گا

شمس الرحمن فاروقی

شاید ہم سے ضد رکھتے ہو آتے نہیں ٹک ایدھر تم

شمس الرحمن فاروقی

شہر سے یار سوار ہوا جو سواد میں خوب غبار ہے آج

شمس الرحمن فاروقی

میرؔ گم کردہ چمن زمزمہ پرداز ہے ایک

شمس الرحمن فاروقی

کچھ موج ہوا پیچاں اے میرؔ نظر آئی

شمس الرحمن فاروقی

کس کو دل سا مکان دیتے ہیں

شمس الرحمن فاروقی

کل دل آزردہ گلستاں سے گذر ہم نے کیا

شمس الرحمن فاروقی

کل لے گئے تھے یار ہمیں بھی چمن کے بیچ

شمس الرحمن فاروقی

کیا جھمکا فانوس میں اپنا دکھلاتی ہے دور سے شمع

شمس الرحمن فاروقی

کیا عشق خانہ سوز کے دل میں چھپی ہے آگ

شمس الرحمن فاروقی

کیا کام کیا ہم نے دل یوں نہ لگانا تھا

شمس الرحمن فاروقی

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI