ہستی اپنی حباب کی سی ہے

میر تقی میر

ہستی اپنی حباب کی سی ہے

میر تقی میر

MORE BYمیر تقی میر

    ہستی اپنی حباب کی سی ہے

    یہ نمائش سراب کی سی ہے

    نازکی اس کے لب کی کیا کہیے

    پنکھڑی اک گلاب کی سی ہے

    چشم دل کھول اس بھی عالم پر

    یاں کی اوقات خواب کی سی ہے

    بار بار اس کے در پہ جاتا ہوں

    حالت اب اضطراب کی سی ہے

    نقطۂ خال سے ترا ابرو

    بیت اک انتخاب کی سی ہے

    میں جو بولا کہا کہ یہ آواز

    اسی خانہ خراب کی سی ہے

    آتش غم میں دل بھنا شاید

    دیر سے بو کباب کی سی ہے

    دیکھیے ابر کی طرح اب کے

    میری چشم پر آب کی سی ہے

    میرؔ ان نیم باز آنکھوں میں

    ساری مستی شراب کی سی ہے

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    فریدہ خانم

    فریدہ خانم

    حبیب ولی محمد

    حبیب ولی محمد

    RECITATIONS

    شمس الرحمن فاروقی

    شمس الرحمن فاروقی

    احمد محفوظ

    احمد محفوظ

    شمس الرحمن فاروقی

    ہستی اپنی حباب کی سی ہے شمس الرحمن فاروقی

    Tagged Under

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY