manto ke numainda afsane

सआदत हसन मंटो

एजुकेशनल बुक हाउस, अलीगढ़
1977 | अन्य
  • सहयोगी

    शमीम हनफ़ी

  • श्रेणियाँ

    अफ़साना

  • पृष्ठ

    264

पुस्तक: परिचय

परिचय

اردو ادب کی خوش قسمتی رہی ہے اس کو دنیا کے اہم افسانہ نگار ملے ان میں سے ایک منٹو بھی تھے ۔ ان کو کئی اعتبار سے جانا گیا جیسے وہ اردو کے سب سے بدنام افسانہ نگار ہیں ، ان پر سب سے زیادہ مقدمے چلے ، انہوں نے ان موضو عات پر قلم اٹھا یا جہاں جانے کے لیے فرشتوں کے پر جل جاتے ہیں ، وہ بہت ہی بے باک افسانہ نگار تھے ، وہ بد نصیب افسانہ نگار بھی تھے۔ بیشتر لوگوں نے انہیں سمجھا اور نہ ان کے افسانوں کو ، اس لیے ان کے افسانوں کا احتساب ان کے ذمہ قرار دیا گیا جو عدالت میں مدعی اور مدعی علیہ پر انصاف کا پلڑابرا بر کرتے تھے۔ جس طرح سے تو ل میں بعض ڈنڈی مارتے ہیں تو ان کے افسانوں کے ساتھ بھی ڈنڈی ماری گئی ۔ منٹو نے جب سماج کے فحش کو سماج کے سامنے رکھا، تو لوگ ان کے افسانوں کو جنسیات سے جوڑنے لگے جو سماج میں شجر ممنوعہ قرار پائے۔ منٹوتو حقیقت کاعکاس ہے ۔وہ اپنے افسانوں میں حقیقت کارنگ بھر نے کے لیے کوئی کسر نہیں اٹھا رکھتا ہے وہ ماحول کو ایسابناکرپیش کرتاہے کہ افسانوں میں گوشت پوست والا کردار چلتا پھر تاہوا نظر آتا ہے ۔ مذکورہ بالا عناصر مکمل طور پر منٹو کے ان لازوال افسانوں میں نظر آتے ہیں جن کو اس کتاب میں جمع کیا گیا ہے ۔

.....और पढ़िए

लेखक: परिचय

सआदत हसन मंटो

Saadat Hassan Manto was a short story writer of Urdu language, in addition to being a film and radio scriptwriter and a journalist. Some of his most praised works include Thanda Gosht, Khol Do, Toba Tek Singh, Iss Manjdhar Mein, Mozalle and Babu Gopi Nath. He published twenty-two collections of short stories, one novel, five collections of radio plays, three collections of essays, and two collections of personal sketches.He was posthumously awarded 'Nishan-I-Imtiaz' award by the Government of Pakistan.

.....और पढ़िए

लेखक की अन्य पुस्तकें

पूरा देखिए

लोकप्रिय और ट्रेंडिंग

पूरा देखिए

पुस्तकों की तलाश निम्नलिखित के अनुसार

पुस्तकें विषयानुसार

शायरी की पुस्तकें

पत्रिकाएँ

पुस्तक सूची

लेखकों की सूची

विश्वविद्यालय उर्दू पाठ्यक्रम