moin-ul-arwah

Jahan Ara Begam

Sayed Meer Hasan
1891 | More Info
  • Sub Title

    Tarjuma Monis-ul-Arwah

  • Contributor

    Suman Mishra

  • Categories

    Translation, Sufism / Mystic

  • Pages

    46

About The Book

Description

شہزادی جہاں آرا وہ واحد مغل شہزادی تھی جس نے تصوف پر فارسی زبان میں کئی کتابیں تصنیف کیں جن میں سب سے مشہور تصنیف ’’معین الارواح ‘‘ ہےجوکہ ’’مونس الارواح‘‘ کے نام سے اردو میں شائع ہوئی۔ یہ کتاب حضرت خواجہ معین الدین اجمیریؒ اور ان کے نامور خلفاء کے حالات و واقعات پر مبنی ہے۔انھوں نے اس کتاب میں قرآن مجید کی آیات کے حوالے بھی دئیے ہیں. شہزادی جہاں آرا نے اپنے پیر دستگیر خواجہ معین الدین چشتی اجمیریؒ کی ارادت اوراپنی وابستگی ،مشاہدات اور سفر اجمیر کے دوران روضہ خواجہ تک پہنچنے کی کیفیات و جذبات کو اسطرح بیان کیا ہے کہ اچھے سے اچھا نثر نگار بھی شہزادی کے علمی و قلمی تبحر کو داد دئیے بغیر نہیں رہ سکتا۔ شہزادی کی عمر اس وقت تیس سال تھی جب اس کے کپڑوں کو آگ لگ گئی اور جھلس جانے کے بعد اس نے شاہجہاں کے ساتھ اجمیر کا سفر کیا تھا جس کے بعد وہ صحت یاب ہوگئی تھی. شہزادی نے عہد کرلیا تھا کہ وہ اپنے پیر دستگیر کے حالات قلم بند کرے گی اور وہ قرض ادا کرے گی جو نسلوں تک ادا نہ ہوسکے گا،شہزادی خوش خط تھی ،انھوں نے کتاب کا پہلا مسودہ اپنے ہاتھوں سے خط نستعلیق میں لکھا تھا۔

.....Read more

More From Author

See More

Popular And Trending Read

See More

EXPLORE BOOKS BY

Book Categories

Books on Poetry

Magazines

Index of Books

Index of Authors

University Urdu Syllabus