aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
شناخت: عوامی اور مقبولِ عام اردو ناول نگار، جنہوں نے گھریلو زندگی اور عورت کی نفسیات کو ناول کا مرکزی موضوع بنایا۔
مینا ناز کا اصل نام امین نواز تھا، جو ابتدا میں پیشے کے اعتبار سے ایک درزی تھے۔ خواتین کے ملبوسات کی سلائی کے باعث انہیں گھریلو زندگی، عورتوں کے باہمی تعلقات اور ان کے جذباتی و نفسیاتی مسائل کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ یہی مشاہدہ بعد میں ان کی تحریروں کی بنیاد بنا۔
1963ء میں انہوں نے اپنا پہلا ناول “پربت” لکھا۔ اس دور میں خواتین ناول نگار زیادہ مقبول تھیں، اس لیے پبلشر نے مرد کے نام سے ناول شائع کرنے سے انکار کر دیا۔ بچپن کے پیار کے نام “مینا” کو بنیاد بنا کر انہوں نے قلمی نام “مینا ناز” اختیار کیا اور اسی نام سے ناول شائع ہوا، جسے بے حد پذیرائی ملی۔
1965ء میں وہ قسمت آزمائی کے لیے کراچی گئے جہاں ان کے ناول ہاتھوں ہاتھ لیے گئے اور وہ ناول نگاری کی دنیا کا معتبر نام بن گئے۔ سو سے زائد ناول لکھنے کے بعد انہیں اندازہ ہوا کہ پبلشر زیادہ منافع خود رکھتے ہیں، چنانچہ 1978ء میں وہ واپس لاہور آئے اور گنپت روڈ پر اپنا ادارہ “بک پیلس” قائم کر کے خود اشاعت شروع کر دی۔
ان کی کہانیوں کے پلاٹ اکثر حقیقی خطوط اور واقعات پر مبنی ہوتے تھے جو خواتین قارئین انہیں خطوں میں بھیجتی تھیں۔ دلچسپ امر یہ رہا کہ بہت سے مرد قارئین انہیں حقیقی خاتون سمجھتے ہوئے محبت نامے اور تحائف بھی بھیجتے رہے، مگر انہوں نے کبھی اپنی اصل شناخت ظاہر نہیں کی۔
1980ء کی دہائی ان کا سنہرا دور تھا جب ان کے ناول ہر بک اسٹال پر نظر آتے تھے۔ 1990ء کے بعد مہنگائی اور بدلتے حالات نے اشاعتی کاروبار کو متاثر کیا۔ 2005ء میں عمر اور ذاتی صدمات (خصوصاً بڑے بیٹے کی وفات) کے باعث انہوں نے بک پیلس بند کر دیا۔
مینا ناز اردو کے ان منفرد اور زرخیز قلمکاروں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے پاکستانی عورت کی نفسیات، گھریلو کشمکش اور جذباتی دنیا کو براہِ راست عوامی ادب کا حصہ بنایا۔
وفات: 1 جنوری 2025 لاہور میں انتقال ہوا۔