سودائی

عصمت چغتائی

روہتاس بکس، لاہور
1992 | مزید
  • معاون

    انجمن ترقی اردو (ہند)، دہلی

  • موضوعات

    ناول, نصابی کتاب

  • صفحات

    128

کتاب: تعارف

تعارف

عصمت چغتائی ایک افسانہ نگار ، ناول نگار اور خاکہ نگار ہیں جن کے یہاں سماج میں چھپی ان برائیوں کو اجاگر کرنے کی ہمت ہے جو کم ہی لوگوں میں دیکھنے کو ملتی ہے ۔ یہ عصمت کا ناولٹ "سودائی" ہے جس کی کہانی ایک اعلی خاندان کے ارد گرد گھومتی ہے جس طرح سے ان کا مرغوب موضوع اشراف کہے جانے طبقے پر کھل کر لکھنا ہے ۔ جن کی زندگی دو حصوں میں منقسم ہے ۔ایک طرف وہ شرافت کا لبادہ اوڑھے ہوئے نظر آتے ہیں۔ تو دوسری طرف اخلاقی اعتبار سے بالکل پست ہیں۔ لیکن ستم ظریفی یہ ہے کہ وہ اپنی جھوٹی شرافت ، عزت اور عیاری کے بل پر سماج کے ٹھیکیدار بن جاتے ہیں ۔ ملت اور قوم کے رہبر اور رہنما کہلاتے ہیں ۔ عصمت چغتائی نے سودائی میں بالواسطہ طور پر اسی تضاد اور استحصال کو اجاگر کیا ہے۔

.....مزید پڑھئے

مصنف: تعارف

عصمت چغتائی

                                                                             اردو فکشن کی باغی خاتون

                                                             " ہمیں  اس  بات کو تسلیم  کرنے میں ذرا بھی  تامل نہیں
                                                                ہونا چاہئے کہ عصمت کی شخصیت اردو ادب کے لئے
                                                               باعث فخر ہے۔ انھوں نے بعض ایسی پرانی فصیلوں میں
                                                              رخنے ڈال دئے ہیں کہ جب تک وہ کھڑی تھیں کئی رستے
                                                            نظروں سے اوجھل تھے۔اس کارنامے کے لئے اردو خوانوں
                                                             کو ہی نہیں بلکہ اردو کے ادیبوں کو بھی ان کا ممنون ہونا
                                                              چاہئے " ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پطرس بخاری

    

عصمت چغتائی کو سعادت حسن منٹو،راجندر سنگھ بیدی اور کرشن چند کے ساتھ  جدید اردو فکشن کا چوتھا ستون مانا جاتا ہے۔ بدنامی اور شہرت،تنازعات اور مقبولیت کے اعتبار سے وہ اردو کی کسی بھی افسانہ نگار سے آگے،منفرد اور ممتاز ہیں۔ ان کی شخصیت اور ان کی تحریر ایک دوسرے کا تکملہ ہے اور جو بغاوت،سرکشی،درد مندی  بےساختگی ،بے تکلفی،الھڑپن اور شگفتہ اکھڑپن سے عبارت ہے۔ انھوں نے اپنے چونکا دینے والے موضوعات،حقیقت پسندانہ طرز نگارش اور اپنے منفرد اسلوب کی بنا پر اردو فسانہ اور ناول نگاری کی تاریخ میں اپنے لئے امتیازی جگہ بنائی۔ انسانی زندگی کے چھوٹے چھوٹے واقعات ان کے افسانوں کا موضوع ہیں لیکن وہ ان واقعات کو اسس چابکدستی اور فنکاری سے پیش کرتی ہیں کہ روزمرّہ کی زندگی کی مکمل اور جیتی جاگی تصویر نگاہوں کے سامنے آ جاتی ہے۔ انھوں نے اپنے کرداروں کے ذریعہ زندگی کی برائیوں کو باہر نکال پپھینکنے اور اسے حسن،مسرت اور سکون کا پیکر بنانے کی کوشش کی۔

عصمت چغتائی اردو کی ترقی پسند تحریک سے وابستہ تتھیں تاہم انھوں نے ،اپنے ہمعصر دوسرے کمیونسٹ ادیبوں کے برعکس،معاشرہ میں خارجی ،معاشرتی استحصال کی بجاے اس میں جاری داخلی ،معاشرتی اور جذباتی استحصال  کو اپنی کہانیوں کا موضوع بنایا۔انھوں نے جنس اور جنسی تعلقات کے مسئلہ کو پوری انسانیت کی نفسیات  اور اسسکی اقدار سازی کے پس منظر مین سمجھنے اور سمجھانے کی کوشش کی۔ انھوں نے اپنی کہانیوں میں مرد اور عورت کی برابری کا سوال اٹھایا جو محض گھریلو زندگی میں برابری نہ ہو کر جذبہ اور فکر کی برابری ہو۔ان کے افسانوں میں متوسط طبقہ کے مسلم گھرانوں کی فضا ہے۔ان افسانوں میں قاری دوپٹْوں کی سرسراہٹ اور چوڑیوں کی کھنک تک سن سکتا ہے  لیکن عصمت اپنے قاری کو جو بات بتانا چاہتی ہیں وہ یہ ہے کہ آنچلوں کی سرسراہٹ اور چوڑیوں کی کھنک کے پیچھے جو عورت آباد ہے وہ بھی انسان ہے اور گوشت پوست کی بنی ہوئی ہے۔وہ صرف چومنے چاتںے کے کئے نہیں ہے۔اس کے اپنے جسمانی اور جذباتی تقاضے ہیں جن کی تکمیل کا ااسے حق ہونا چاہئے۔عصمت اک باغی روح لے کر دنیا میں آئیں اور معاشرہ کے جملہ مسلّمہ اصولون کا منہ چڑایا اور انھیں انگوٹھا دکھایا۔

عصمت چغائی 21 اگست 1915ء کو اتر پردیش کے شہر بدایوں میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد مرزا قسیم نیگ چغتائی اک اعلی سرکاری عہدہ دار تھے۔عصمت اپنے نو بھائی بہنوں میں سب سے چھوٹی تھیں جب انھوں نے ہوش سنبھالا تو بڑی بہنوں کی شادیان ہو چکی تھیں اور ان کو بچپن میں صرف اپنے بھائیوں کا ساتھ ملا ۔جن کی برتری کو وہ لڑ جھگڑ کر چیلنج کرتی تھیں۔ گلی ڈنڈا اور فٹبال کھیلنا ہو یا گھوڑسواری اور درختوں پر چڑھنا ،وہ ہر وہ کام کرتی تھیں جس کی لڑکیون کو ممانعت تھی۔انھوں نے چوتھی جماعت تک آگرہ میں اور پھو آٹھویں جماعت علیگرھ کے اسکول سے پاس کی جس کے بعد ان کے والدین ان کی مزید تعلیم کے حق میں نہیں تھے اور انھیں اک سلیقہ مند گرہست عورت بننے کی تربیت دینا چاہتے تھے لیکن عصمت کو اعلی تعلیم کی دھن تھی انھوں نے دھمکی دی کہ اگر ان کی تعلیم جاری نہ رکھی گئی تو وہ گھر سے بھاگ کر عیسائی بن جائیں گی اور مشن اسکول میں داخلہ لے لین گی۔آخر ان کی ضد کے سامنے والد کو گھٹنے ٹیکنے پڑے اور انھوں نے علی گڑھ جا کر سیدھے دسویں میں داخلہ لے لیا۔ اور وہیں سے ایف اے کا امتحان پاس کیا۔۔علی گڑھ میں ان کی ملاقات  رشید جہاں سے ہوئی جنھوں نے  1932ء میں سجّاد ظہیر اور احمد علی کے ساتھ مل کر کہانیوں کا اک مجموعہ "انگارے" کے نام سے شائع کیا تھا جس کو فحش اور باغیانہ ٹھیراتے ہوے حکومت نے اس پر  پابندی ؑعاید کر دی تھی اور اس کی تمام کاپیاں ظبط کر لی گئی تھیں۔رشید جہاں اعلی تعلیم یافہ ایم بی بی ایس ڈاکٹر،آزاد خیال ،پسماندہ اور مظلوم عورتوں کے حقوق کی علمبردار، کمیونسٹ نظریات رکھنے والی خاتون تھیں انھوں نے عصمت کو کمیونزم کے بنیادی عقاید سے روشناد کرایا  اور عصمت نے ان کو اپنا گرو مان کر ان کے نقش قدم پر چلنے کا فیصلہ کیا۔عصمت کہتی ہیں " مجھے روتی بسورتی،حرام کے بچّے جنتی،ماتم کرتی نسوانیت سے نفرت تھی وفا اور جملہ خوبیاں جو  عورت کا زیور سمجھی جاتی ہیں، مجھے لعنت محسوس ہوتی ہیں ۔جذباتیت سے مجھے سخت کوفت ہوتی ہے۔عشق مقّوی دل و دماغ ہے نہ کہ جی کا روگ ۔۔یہ سب میں نے رشید آپا سے سیکھا" عصمت عورتوں کی حالت زار کے لئے ان کی ناخواندگی کو ذمہ دار سمجھتی تھیں ۔انھوں نے ایف اے کے بعد، لکھنؤ کے آئی ٹی کالج میں داخلہ لیا جہاں ان کے مضامین انگریزی ،سیاسیات اور معاشیات تھے۔آئی ٹی کالج میں آ کر ان کو پہلی بار آزاد فضا میں سانس لینے کا موقع ملا اور وہ متوسط طبقہ کے مسلم معاشرہ کی تمام جکڑبندیوں سے آزاد ہو گئیں۔

عصمت چغتائی نے گئارہ بارہ برس کی ہی عمر میں کہانیاں لکھنی شروع کر دی تھیں لیکن انھیں اپنے نام سے شائع نہیں کراتی تھیں۔ان کی پپہلی کہانی 1939 ء میں "فسادی" کے عنوان سے موقر ادبی رسالہ "ساقی" میں شائع ہوئی تو لوگوں نے خیال کیا کہ ان کے بھائی ،معروف ادیب، عظیم بیگ چغتائی نے فرضی نام سے یہ کہانی لکھی ہے۔ اسکے بعد جب ان کی کہانیاں "کافر"، "خدمتگار"   "،ڈھیٹ" اور" بچپن" اسی سال شائع ہوئیں تو ادبی حلقوں میں کھلبلی مچی اور عصمت نے اک مقبول افسانہ نگار کی حیثیت سے اپنی پہچان بنا لی۔ان کی کہانیوں کے دو مجموعے کلیاں اور چوٹیں 1941 اور 1942 میں شائع ہوئے۔لیکن انھوں نے اپنی ادبی زندگی کا سب سے بڑا دھماکہ 1941ء میں لحاف لکھ کر کیا۔دو عورتوں کے باہمی جنسی تعلقات کے موضوع پر لکھی گئی اس کہانی سے ادبی دنیا میں بھونچال آ گیا۔ ان پر فحش نگاری کا مقدمہ قایم کیا گیا اور اس پر اتنی بحث ہوئی کہ یہ افسانہ ساری زندگی کے لئے عصمت کی پہچان بن گیا۔ اور ان کی دوسری اچھی کہانیاں۔۔۔ چوتھی کا جوڑا،گیندا،دو ہاتھ،جڑیں ہندوستان چھوڑو،ننھی کی نانی،بھول بھلیاں،مساس اور بچھو پھوپھی۔۔۔ لحاف میں دب کر رہ گئیں۔

آئی ٹی کالج لکھنؤ اور علی گڑھ سے بی ٹی کرنے، مختلف مقامات پر معلمی کرنےاور کچھ بالاعلان،دھوان دھار معاشقوں کے بعد عصمت نے بمبئی کا رخ کیا جہاں ان کو انسپکٹریس آف اسکولز کی ملازمت مل گئی۔ بمبئی میں شاہد لطیف بھی تھے جو پونے دو سو روپے ماہوار پر بمبئی ٹاکیز میں مکالمے لکھتے تھے۔ شاہد لطیف سے ان کی ملاقات علی گڑھ میں ہوئی تھی جہان وہ ایم اے کر رہے تھے اور ان کے افسانے ادب لطیف وغیرہ رسالوں میں شائع ہو تے تھے۔ بمبئی پہنچ کر ان دونوں کا طوفانی رومانس شروع ہوا اور دونوں نے شادی کر لی۔محبت کے معاملہ میں عصمت کا رویّہ بالکل غیر روائتی تھا۔ ان کا کہنا تھا "میں محبت کو بڑی ضروری اور بہت اہم شئے سمجھی ہوں،محبت بڑی مقوی دل و دماغ شئے ہے لیکن اس میں لیچڑ نہیں بن جانا چاہئے۔اٹواٹی کھٹواٹی نہیں لینا چاہئے،خودکشی نہیں کرنا چاہئے زہر نہیں کھانا چاہئے۔اور محبت کا جنس سے جو تعلق ہےے وہ فطری ہے ۔وہ زمانہ لد گیا جب محبت پاک ہوا کرتی ھی۔اب تو محب ناپاک ہونا ہی خوبصورت مانا جاتا ہے" اسی لئے جب شاہد لطیف نے شادی کی تجویز پیش کی تو عصمت نے کہا " میں گڑبڑ قسم کی لڑکی ہوں،بعد میں پچھتاؤ گے۔میں نے ساری عمر زنجیریں کاٹی ہیں اب کسی زنجیر میں جکڑی نہ رہ سکوں گی فرماں بردار پاکیزہ عورت ہونا مجھ پر سجتا ہی نہیں۔لیکن شاہد نہ مانے"۔شاہد لطیف کے ساتھ اپنے تعلق کے بارے میں وہ کہتی ہیں "مرد عورت کوپوج کر دیوی بنانے کو تیار ہے،وہ اسے محبت دے سکتا ہے،عزت دے سکاتا ہے صرف برابری کا درجہ نہیں دے سکتا  شاہد نے مجھے برابری کا درجہ دیا" برابری کے اس درجہ کی اساس مکمل دوطرفہ آزادی تھی۔اس میں جذباتی تعلق کا کتنا دخل تھااس کا اندازہ اس بات سے ہو سکتا ہے کہ جب 1967ء میں شاہد لطیف کا دل کا دورہ پڑنے سے انتقال ہو ا اور ڈاکٹر صفدر آہ عصمت سے اظہار ہمدردی کرنے ان کے گھر پہنچے تو عصمت نے کہا ""یہ تو دنیا ہے ڈاکٹر صاحب! یہاں آنا جانا تو لگا ہی رہتا ہے۔جیسے اس ڈرائنگ روم کا فرنیچر ،یہ صوفہ ٹوٹ جاے گا توہم اسے باہر نکال دیں گے پھر اس خالی جگہ کو کوئی دوسرا صوفہ پُر کر دے گا"

شاہد لطیف نے عصمت کو فلمی دنیا سے روشناس کرایا تھا ۔وہ اسکرین رائٹر سے فلم پروڈیوسر بن گئے تھے۔عصمت ان کی فلموں کے لئے کہانیاں اور مکالمے لکھتی تھیں ان کی فلموں میں ضدی (دیوانند پہلی بار ہیرو کے رول میں) آرزو(دلیپ کمار،کامنی کوشل)اور سونے کی چڑیا باکس آفس پر ہٹ ہاوئیں۔ اس کے بعد ان کی فلمیں ناکام ہوتی رہیں ۔شاہد لطیف کی موت کے بعد  بھی عصمت فلمی دنیا سے وابستہ رہیں پارٹیشن کے موضوع پر بنائی گئی لاجواب فلم "گرم ہوا "عصمت کی ہی اک کہانی پر مبنی ھی شیام بنیگل کی دل کو چھو لینے والی فلم 'جنون" کےمکالمے عصمت نے لکھے تھے اور اک چھوٹا سا رول بھی ادا کیا تھا۔ان کے علاوہ عصمت جن فلموں سے وابستہ رہیں اان میں چھیڑ چھاڑ،شکایت،بزدل،شیشہ،فریب،دروازہ،سوسائتی، اور لالہ رخ  شامل ہیں۔ 

فکشن میں عصمت کی فنکاری کا بنیادی رمز اور اس کا سب سے  اثر انگیز پہلو ان کا اسلوب بیان ہے۔زبان عصمت کی کہانیوں میں محض اداے خیال کا وسیلہ نہیں اپنے آپ میں اک مجرد سچائی بھی ہے۔عصمت نے زبان کو اک کردار کی طرح جاندار،متحرک اور حرارت آمیز عنصر کے طور پر دیکھااور اس طرح رائج الوقت اسالیب اور صیغہ ء اظہار کے ہجوم میں عصمت نے اسلوب و اظہار کی  اک نئی سطح تلاش کی اور ان کی یہ کوشش الگ سے پہچانی جاتی ہے۔ان کی زبان تحریری ہوتے ہوئے بھی تحریری نہیں ہے ۔عصمت کی تحریریں پڑھتے وقت قاری بے تکلف بات چیت کے تجربے سے گزرتا ہے۔ ان کا ذخیرہ ء الفاظ اپنے تمام ہمعصروں سے زیادہ وسیع متنوع اور رنگین ہے۔ان کی تحریر میں زبان محاورے اور روزمرہ کے تمام محاسن کے ساتھ اک نوکیلا پپن ہے اور قاری اس کے کچوکے محسوس کئے بغیر نہیں رہ سکتا۔بقول پظرس عصمت کے ہاتھوں اردو انشاء کو نئی جوانی نصیب ہوئی ہے۔ وہ پرانے،مانوس اور پامال الفاظ میں مفہوم اور تاثیر کی نئی طاقتوں کا سراغ لگاتی ہیں  ان کی قوت ایجاد ہزاروں نت نئی تشبیہات تراشتی ہےاور نئے سانچے تعمیر کرتی ہے ۔عصمت کی موت پر قرۃ العین حیدر نےکہا تھا "آل چغائی کی اردوے معلی کب کی ختم ہوئی،اردو زبان کی کاٹ اور ترک تازی عصمت خانم کے ساتھ چلی گئی"

عصمت چغتائی اک زود نویس ادیبہ تھیں ۔انھوں نے اپنا نیم سوانحی ناول" ٹیڑھی لکیر" سات آٹھ دن میں اس حالت میں لکھا کہ وہ حاملہ اور بیمار تھیں۔ اس ناول میں انھوں نے اپنے بچپن سے لے کر جوانی تک کے تجربات و مشاہدات کو بڑی خوبی سے سمویا ہے اور معاشرے کے جملہ مسلّمات پر ضربیں لگاتے ہوئے،مذہبی سماجی اور نظریاتی تصورات کی بے دریغ نکتہ چینی کی ہے ۔ان کے آٹھ ناولون میں اس ناول کا وہی مقام ہےجو پریم چند کے ناولوں میں" گئو دان" کا ہے۔ان کے دوسرے ناول ضدی" "معصومہ" ،" دل کی دنیا" ، " اک قطرہ ء خون" ، "بہروپ "،"سودائی "، "جنگلی کبوتر"، "عجیب آدمی"،اور "باندی" ہیں۔ وہ خود "دل کی دنیا "کو اپنا بہترین ناول سمجھتی تھیں۔

عصمت کو انکی ادبی خدمات کے صلہ میں سرکاری اور غیر سرکاری اداروں کی جانب سے کئی اہم اعزازات اور انعامات ملے۔1975 میں حکومت ہند نے انھیں پدم شری کا خطاب دیا۔ 1990 میں مدھیہ پردیش حکومت نے انھیں اقبال سمّان سے نوازا،انھیں غالب ایوارڈ اور فلم فیئر ایوارڈ بھی دئے گئے۔ نصف صدی تک ادب کی دنیا میں روشنیاں بکھیرنے کے بعد24 اکتوبر 1991 کو وہ دارفانی سے کوچ کر گئیں اور ان کی وصیت کے مطابق ان کے جسد خاکی کو چندن واڑی برقی شمشان گھاٹ میں سپرد آتش کر دیا گیا۔

.....مزید پڑھئے

مصنف کی مزید کتابیں

مزید

مقبول و معروف

مزید

کتابوں کی تلاش بہ اعتبار

کتابیں : بہ اعتبار موضوع

شاعری کی کتابیں

رسالے

کتاب فہرست

مصنفین کی فہرست

یونیورسٹی اردو نصاب