تلاش

ممتاز مفتی

1995 | مزید
  • معاون

    حیدر علی

  • موضوعات

    اخلاقی کہانی, مضامين و خاكه

  • صفحات

    270

کتاب: تعارف

تعارف

"تلاش"ممتاز مفتی کی آخری تصنیف ہے یہ کتاب ان کے ادبی کارناموں میں اس فکری تغیر کا سب سے بڑا ترجمان ہے جس میں انہوں نےاپنی نوے سالہ زندگی کےتجربات و مشاہدات کاایک دلچسپ نچو ڑ پیش کیا ہے ۔سماجی و معاشرتی زندگی کے کھوکھلے پن پر بھی ایک نئے انداز میں تجزیہ کیا گیا ہے، مذہب کو ایک آلۂ کار کے طور پر اپنانے والوں کو بھی طنزکا نشانہ بنایاگیاہے،اس کتاب میں انھوں نے ایسے سوالات اٹھائیں ہیں جو بہت ہی عام ہیں جیسے کے اسلام کیا ؟ انھوں نے یہ سوال اٹھاکر لوگوں کو اسلام کے بارے میں سوچنے پر مجبور کیا کہ آیاا سلام صرف ایک مذہب ہے یامکمل ظابطہ حیات؟ایسے ہی مسلمان کون ہے ؟ کہ کر لوگوں کو اس جانب متوجہ کیا ہے کہ مسلمان کیا صرف وہی ہے جو مسلم گھرانے میں پیدا ہو یا مسلمانوں کا حلیہ اپنا لے، اسی طرح اس کتاب میں انھوں نے ایسے لوگوں کو بھی آڑے ہاتھوں لیا ہےجو نصیحت کو اپنا حق سمجھتے ہیں اور خدا کی رحمت اور محبت کے بجائے اس کا ڈراور خوف لوگوں کے دلوں میں پیدا کرتے ہیں ۔ساتھ ہی ساتھ اس پوری کتاب میں قرآ ن کی روح کی چھاپ نظر آتی ہیں انھوں نے قرآنی آیات کی تہہ در تہہ معانی کے تلاش کی جانب توجہ دلائی ہے۔

.....مزید پڑھئے

مصنف: تعارف

ممتاز مفتی

ممتاز مفتی

ممتاز مفتی اردو افسانے کی روایت میں ایک اہم افسانہ نگار کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ انہوں نے موضوع، مواد اور تکنیک کی سطح پر کئی تجربے کیے۔ ان کے افسانے خاص طور پر گمبھیر نفسیاتی مسائل کو  موضوع بناتے ہیں۔ ممتاز مفتی نے ’علی پور کا ایلی ‘ کے نام سے ایک ضخیم ناول بھی لکھا ۔   اشاعت کے بعد اس کا شمار اردو کے بہترین ناولوں میں کیا گیا۔
ممتاز مفتی کی  پیدائش  گیارہ ستمبر ۱۹۰۵ کو بٹالہ ضلع گرداسپورمشرقی پنجاب میں ہوئی۔ امرتسر ، میانوالی،اور ڈیرہ غازی میں ابتدائی تعلیم حاصل کی پھر ۱۹۲۹ میں اسلامیہ کالج لاہور سے بی اےاور۱۹۳۳ میں سنٹرل کالج لاہور سے ایس اے وی کا امتحان پاس کیا۔ آل انڈیا ریڈیو اور ممبئی فلم انڈسٹری میں ملازم رہے۔ ۱۹۴۷ میں پاکستان چلے گئے۔وہاں حکومت پاکستان کے مختلف عہدوں پر فائز رہے۔ ۲۷ اکتوبر ۱۹۹۵  کو انتقال  ہوا۔
ممتاز مفتی کے افسانوی مجموعے ان کہی ، گہماگہمی،چپ، گڑیاگھر،روغنی پتلے، کے نام سے شائع ہوئے۔ انہوں نے انشائیے بھی لکھے جو بہت مشہور ہوئے اور شوق سے پڑھے گئے ۔ ’غبارے ‘ کے نام سے انشائیوں کا مجموعہ شائع ہوا۔’ کیسے کیسے لوگ‘  اور ’پیاز کے چھلکے‘ کے نام سے خاکوں کے دو مجموعے شائع ہوئے۔عمر کے آخری برسوں میں ممتاز مفتی سفر حج پر گئے اور واپسی پر’لبیک‘  کے نام سے سفر حج کی رودار  لکھی جو بے پناہ مقبول ہوئی اور ان کی کہانیوں کی طرح دلچسپی کے ساتھ پڑھی گئی۔


.....مزید پڑھئے

مصنف کی مزید کتابیں

مزید

مقبول و معروف

مزید

کتابوں کی تلاش بہ اعتبار

کتابیں : بہ اعتبار موضوع

شاعری کی کتابیں

رسالے

کتاب فہرست

مصنفین کی فہرست

یونیورسٹی اردو نصاب