umrao jaan ada

मिर्ज़ा हादी रुस्वा

मकतबा जामिया लिमिटेड, नई दिल्ली
2012 | अन्य

पुस्तक: परिचय

परिचय

امراؤ جان ادا مرزا ہادی رسوا کا شاہکار ناول ہے۔ اس ناول نے رسوا کو غیر معمولی شہرت دلائی۔ کہتےہیں کہ یہ ایک جھوٹی کہانی ہے حقیقت میں کوئی ایسی طوائف نہیں تھی لیکن جب رسوا نے اس کو نثر کا جامہ پہنایا اور اتنے خوبصورت انداز میں پیش کیا تو لکھنؤ کے چوک کے علاقے میں لوگ امراؤ جان کو ڈھونڈنے آتے۔ اگر اس کو مصنف کی اپج مانا جائے تو یہ مصنف کی بڑی کامیابی ہے کہ اس نے اپنی تحریر میں روح پھونک دی ہے۔ کیوں کہ ناول نگاری میں ایک فرضی قصے کو اتنے اچھوتے انداز میں بیان کر دینا کہ حقیقت لگنے لگے یہ عیب نہیں بلکہ فکشن کے لئے خوبی ہے۔ اس ناول میں معاشرتی، نفسیاتی، تاریخی، تہذیبی اور ثقافتی پہلو کو جابجا دکھایا گیا ہے۔ناول میں فیض آباد سے اغوا شدہ "امیرن " کی کہانی بیان کی گئی ہے۔ رسوا نے اس ناول میں شہر لکھنو کی معاشرتی، تہذیبی و ادبی چہل پہل کو اس خوبصورت پیرایہ میں پیش کیا ہے کہ لکھنو قاری کی نظروں میں رچ بس جاتا ہے۔ اس میں یہ دکھانے کی کوشش کی گئی ہے کہ طوائفوں کے کوٹھے کس طرح تہذیب و تربیت کی آماجگاہ ہوا کرتے تھے جہاں شرفا کے بچے تربیت کے لئے آتے اور وہ طوائف جو کہیں نہ کہیں دوم درجے کی شہریت رکھتی ہے شرفا کو تعلیم و تربیت کرتی ہے۔ ناول کی زبان سادہ و آسان فہم ہے مگر جابجا شعر و سخن کی پیوندکاری نے نثر میں نگ جڑنے کا کام کیا ہے ۔ مشاعروں کی نشست و برخواست نے قدیم لکھنو کی وہ تصویر کھینچی ہے کہ وہ ادبی سرگرمی اور دبستان لکھنو کی جھلک محسوس ہوتی ہے۔ طوائفوں کے اٹھنے بیٹھنے کا انداز اور ان کی نفاست کو ناول میں بہت واضح دیکھا جا سکتا ہے۔

.....और पढ़िए

लेखक की अन्य पुस्तकें

पूरा देखिए

लोकप्रिय और ट्रेंडिंग

पूरा देखिए

पुस्तकों की तलाश निम्नलिखित के अनुसार

पुस्तकें विषयानुसार

शायरी की पुस्तकें

पत्रिकाएँ

पुस्तक सूची

लेखकों की सूची

विश्वविद्यालय उर्दू पाठ्यक्रम