شناخت: محقق، ماہرِ لسانیات، لغت نویس اور کتاب دوست
پروفیسر عبدالرشید 21 اپریل 1956ء کو دہلی میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے ثانوی تعلیم اینگلو عربک اسکول، دہلی سے حاصل کی۔ بعد ازاں موجودہ ذاکر حسین کالج (سابق دہلی کالج) سے بی اے کیا۔ دہلی یونیورسٹی سے ایم اے (لسانیات)، ایم اے (اردو) اور ایم فل کی ڈگریاں حاصل کیں، جبکہ جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی کے شعبۂ اردو سے پی ایچ ڈی مکمل کی۔
پروفیسر عبدالرشید نے 1985ء سے 1992ء تک سینٹرل انسٹی ٹیوٹ آف انڈین لینگویجز کے تحت قائم اردو ٹیچنگ اینڈ ریسرچ سینٹر، لکھنو میں بطور عارضی لیکچرر خدمات انجام دیں۔ اس کے بعد طویل عرصے تک جامعہ ملیہ اسلامیہ سے وابستہ رہے اور 1996ء سے 2021ء تک تدریس و تحقیق کے مختلف مراحل طے کرتے ہوئے شعبۂ اردو میں پروفیسر کے منصب سے سبک دوش ہوئے۔
اردو لغات، اردو رسم الخط، انیسویں صدی کے اردو قصے، نادر و کمیاب کتابوں کی تلاش، تعارف اور تدوین ان کی خصوصی دلچسپی کے موضوعات ہیں۔ اردو لغت اور کتابیات کے میدان میں ان کی علمی خدمات کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ ان کے تحقیقی مضامین ہندوستان اور پاکستان کے معتبر ادبی جرائد اور اخبارات میں شائع ہوتے رہے ہیں۔
پروفیسر عبدالرشید کثیر لسانی لغت ’’فرہنگِ آریان‘‘ کے شریک مدیر ہیں، جو فارسی، ہندی، انگریزی اور اردو پر مشتمل ایک اہم لغوی منصوبہ ہے اور ایران کلچر ہاؤس، نئی دہلی کے زیرِ اہتمام شائع ہو رہا ہے۔ اس کی متعدد جلدیں منظرِ عام پر آ چکی ہیں۔
ان کی اہم تصانیف، تدوینات اور کتابی منصوبوں میں ’’فارسی میں ہندی الفاظ‘‘، ’’فرہنگِ کلامِ میر (چراغِ ہدایت کی روشنی میں)‘‘، ’’فہرستِ کتب مطبع منشی نول کشور‘‘ (بہ اشتراک پروفیسر چندر شیکھر)، ’’فہرستِ کتب صدیق بک ڈپو‘‘ (بہ اشتراک پروفیسر سی۔ ایم۔ نعیم)، ’’قصہ سپاہی زادہ‘‘، ’’قصہ چھبیلی بھٹیاری‘‘، ’’قصہ گرو چیلہ‘‘، ’’نقلیں اور حکایتیں‘‘، ’’باقیاتِ غلام عباس‘‘، ’’آئینۂ حیرت اور دوسری تحریریں‘‘، ’’فرہنگِ طلسمِ ہوش ربا‘‘ (جلد اول) اور ’’پہلا قدم (ہندی دوارا اردو سیکھیے)‘‘ شامل ہیں۔
کتابیات اور لسانیات کے میدان میں ان کی اہم علمی کاوش A Selected Bibliography of Urdu Language and Linguistics بھی ہے، جسے انہوں نے پروفیسر اے۔ آر۔ فتیحی کے اشتراک سے مرتب کیا۔
ان کی علمی و تحقیقی خدمات کے اعتراف میں اردو اکادمی دہلی نے 2012ء میں انہیں ایوارڈ برائے تحقیق و تنقید سے نوازا، جبکہ 2024ء میں غالب انسٹی ٹیوٹ، نئی دہلی نے انہیں اردو زبان و ادب کے فروغ میں مجموعی خدمات پر غالب انعام عطا کیا۔