شناخت: ممتاز محقق، مہتمم کتب خانہ، کتاب دوست، اور اردو کے مایہ ناز ادیب
عابد رضا بیدار 4 فروری 1934ء کو ریاست رامپور کے ایک علمی و ادبی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق پٹھانوں کے مشہور یوسف زئی قبیلے سے تھا۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم رامپور میں حاصل کی اور پھر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے اردو اور اسلامک اسٹڈیز میں ایم اے کی ڈگریاں حاصل کیں۔ 1963ء میں انہوں نے "مصر میں قومی تحریک کا ارتقاء" کے موضوع پر ڈاکٹریٹ (PhD) مکمل کی۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے لائبریری سائنس میں بھی گریجویشن (B.Lib) کیا، جو بعد ازاں ان کی پیشہ ورانہ شناخت کا اہم حصہ بنا۔
عملی زندگی کا آغاز انہوں نے رضا لائبریری رامپور سے بحیثیت کیٹلاگر کیا، جہاں قدیم مخطوطات اور علمی ذخیرے سے ان کا گہرا تعلق قائم ہوا۔ بعد ازاں وہ جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں شعبۂ ویسٹ ایشین اینڈ نارتھ افریقن اسٹڈیز سے وابستہ ہوئے اور تدریسی خدمات انجام دیں۔ تاہم ان کی زندگی کا سب سے نمایاں دور 1972ء میں شروع ہوا، جب انہیں خدا بخش لائبریری، پٹنہ کا ڈائریکٹر مقرر کیا گیا۔
خدا بخش لائبریری میں ان کی خدمات ایک نئے عہد کی بنیاد ثابت ہوئیں۔ انہوں نے عربی، فارسی اور اردو مخطوطات کی فہرست سازی، نادر کتب کی تدوین اور علمی مواد کی اشاعت کے ذریعے اس ادارے کو عالمی سطح پر متعارف کرایا۔ ان کی کاوشوں سے نہ صرف لائبریری کی علمی حیثیت مستحکم ہوئی بلکہ اسے جدید سہولیات سے آراستہ ایک فعال تحقیقی مرکز کی صورت بھی حاصل ہوئی۔ اسی زمانے میں انہوں نے 'خدا بخش جرنل' کا اجرا کیا، جو آج بھی علمی دنیا میں معتبر حیثیت رکھتا ہے۔
عابد رضا بیدار کی علمی خدمات نہایت وسیع اور ہمہ گیر ہیں۔ انہوں نے تقریباً چالیس کتابیں تصنیف کیں اور دو سو کے قریب کتب کی تدوین و ترتیب انجام دی۔ ان کی تصانیف میں عربی اسلامی مدارس کا نصاب تعلیم، اردو کے اہم رسائل و جرائد، نثر کا حسن اور میرے عہد کے صاحب طرز نثر نگار جیسی اہم کتابیں شامل ہیں۔ اسی طرح انہوں نے اسلامی تاریخ، تصوف، بین المذاہب ہم آہنگی اور ہندوستانی تہذیب و ثقافت کے موضوعات پر بھی گراں قدر کام کیا۔
صحافت کے میدان میں بھی ان کی دلچسپی نمایاں رہی۔ طالب علمی کے زمانے میں انہوں نے ’’علیگ‘‘ اور ’’مشرق وسطیٰ‘‘ جیسے رسائل جاری کیے، بعد ازاں ’’نیا خواب‘‘ کی ادارت کی اور علمی صحافت کو فروغ دیا۔ جدید دور میں انہوں نے آن لائن میگزین علی گڑھ ڈائسپورہ کے ذریعے بھی علمی و ادبی مکالمے کو جاری رکھا۔
عابد رضا بیدار کی فکر کا ایک اہم پہلو بین المذاہب ہم آہنگی اور قومی یکجہتی تھا۔ وہ اس بات پر یقین رکھتے تھے کہ مختلف مذاہب اور ثقافتوں کے درمیان مکالمہ اور باہمی احترام ہی ایک بہتر معاشرے کی بنیاد ہے۔ اسی فکر کے تحت انہوں نے علمی سطح پر متعدد اقدامات کیے اور ایسے اداروں کے قیام میں رہنمائی فراہم کی جو اس مقصد کو آگے بڑھاتے ہیں۔
ان کی شخصیت علم، تحقیق، خدمت اور اخلاص کا حسین امتزاج تھی۔ وہ نہ صرف ایک کامیاب محقق اور منتظم تھے بلکہ ایک ایسے صاحبِ دل انسان بھی تھے جنہوں نے اپنی پوری زندگی علم و ادب کی خدمت کے لیے وقف کر دی۔
وفات: 28 مارچ 2025ء کو انتقال ہوا۔