Added to your favorites
غوریوں کے دور میں دہلی کی مرکزیت اور پھر محمد تغلق کے عہد میں دکن منتقلی سے اردو اور ہندی کی مشترکہ زبان کے ارتقائی مراحل کا جائزہ۔
دہلی کے ابتدائی شعرا نے ولی دکنی کے اثر کو محسوس تو کیا، لیکن علاقائی تعصب کے باعث ان کی برتری کو کھلے دل سے تسلیم کرنے میں ہچکچاہٹ کا شکار رہے۔
یہ مضمون اردو زبان کے ابتدائی دور کی نفسیاتی کشمکش، فارسی کے غلبے اور ولی دکنی کی شاعری کے اس انقلابی اثر کا جائزہ لیتا ہے جس نے اردو کو ایک باقاعدہ ادبی زبان کا درجہ دلایا۔
ولی دکنی کی تاریخِ وفات کا تعین محض ایک تاریخی بحث نہیں، بلکہ اس کے پیچھے دہلی کے تذکرہ نگاروں کی گہری ادبی سیاست کارفرما ہے۔
ولی دکنی کو شاہ گلشن کی جانب سے ریختہ گوئی میں فارسی مضامین باندھنے کے مشورے کی کہانی دراصل دہلی کے تذکرہ نگاروں کی اختراع ہے۔
یہ مضمون فورٹ ولیم کالج کی خدمات اور بالخصوص میر امن کی 'باغ و بہار' کے اس لسانی توازن پر بحث کرتا ہے جس نے اردو نثر کو سادگی اور روانی عطا کی۔
آپ کو باقاعدگی سے کچھ حاصل کرنا ہے لیکن اس کے علاوہ آپ کسی بھی ای میل کا استعمال نہیں کرتے ہیں۔