aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "muddat"
ایک مدت سے تری یاد بھی آئی نہ ہمیںاور ہم بھول گئے ہوں تجھے ایسا بھی نہیں
اتنی مدت بعد ملے ہوکن سوچوں میں گم پھرتے ہو
ایک مدت سے مری ماں نہیں سوئی تابشؔمیں نے اک بار کہا تھا مجھے ڈر لگتا ہے
مدت ہوئی ہے یار کو مہماں کیے ہوئےجوش قدح سے بزم چراغاں کیے ہوئے
مدت کے بعد آج اسے دیکھ کر منیرؔاک بار دل تو دھڑکا مگر پھر سنبھل گیا
मुद्दत مُدَّت
۱۔ دیر ، عرصہ ، عرصہء دراز
عربی, فارسی
मुड़त مُڑَت
مڑنے کا عمل ۔
मुद्द'आत مُدَّعات
مدعا (رک) کی جمع ؛ خواہشیں ، مقاصد ، مطالب ، مرادیں ، مقصودات
मुद्दत-का مُدّت کا
دیر کا، پُرانا، برسوں کا، عرصہ دراز کا
عربی, ہندی
مودت کی روشنی
مصنف: بتول مسرت
2024
شاعری مجموعہ
دعائے کشف المودت لعقد المحبت
مصنف: ملک علی محمد چشتی
قلیل مدتی تدریس
مصنف: ڈاکٹر کفیل احمد
2014
مورت
مصنف: مستنصر حسین تارڑ
2000
ڈرامہ
احسن الوعا لآداب الدعا
ذیل المدعا لاحسن الوعاء
مصنف: محمد احمد رضا خان
مذہبیات اسلامیات
سفر مدام سفر
مصنف: بلراج کومل
1969
برف کی مورت
مصنف: نیتھینل ہاتھورن
مترجم: کیول سوری
1965
موہنی مورت
مصنف: نامعلوم مصنف
1903
ناول رومانی
مکٹ
مصنف: رابندرناتھ ٹیگور
مترجم: شانتی نرائن شاد
ترجمہ ناول
میں مٹی کی مورت ہوں
مصنف: فہمیدہ ریاض
حرف مدعا
مصنف: کالی داس گپتا رضا
1999
تحقیق و تنقید مقالات/مضامین
مدعا
مصنف: ظہیر صدیقی
1983
مصنف: نذیر فتح پوری
2008
شاعری غزل
مصنف: ابو الانشاء
2001
حصول مدعا
مصنف: محمد اظہر حیات
2021
شاعری دیوان
مدت ہوئی اک شخص نے دل توڑ دیا تھااس واسطے اپنوں سے محبت نہیں کرتے
ہوئی مدت کہ غالبؔ مر گیا پر یاد آتا ہےوہ ہر اک بات پر کہنا کہ یوں ہوتا تو کیا ہوتا
مدت کے بعد اس نے جو کی لطف کی نگاہجی خوش تو ہو گیا مگر آنسو نکل پڑے
اب گھر بھی نہیں گھر کی تمنا بھی نہیں ہےمدت ہوئی سوچا تھا کہ گھر جائیں گے اک دن
مدت کے بعد خواب میں آیا تھا میرا باپاور اس نے مجھ سے اتنا کہا خوش رہا کرو
مدت سے خواب میں بھی نہیں نیند کا خیالحیرت میں ہوں یہ کس کا مجھے انتظار ہے
ایک مدت سے خیالوں میں بسا ہے جو شخصغور کرتے ہیں تو اس کا کوئی چہرہ بھی نہیں
ایک مدت سے نہ قاصد ہے نہ خط ہے نہ پیاماپنے وعدے کو تو کر یاد مجھے یاد نہ کر
مدت ہوئی ہے بچھڑے ہوئے اپنے آپ سےدیکھا جو آج تم کو تو ہم یاد آ گئے
آج ناگاہ ہم کسی سے ملےبعد مدت کے زندگی سے ملے
میرے رونے کی حقیقت جس میں تھیایک مدت تک وہ کاغذ نم رہا
پڑھتے پھریں گے گلیوں میں ان ریختوں کو لوگمدت رہیں گی یاد یہ باتیں ہماریاں
دل برباد کو آباد کیا ہے میں نےآج مدت میں تمہیں یاد کیا ہے میں نے
مدت ہوئی کہ زندہ ہوں دیکھے بغیر اسےوہ شخص میرے دل سے اتر تو نہیں گیا
پہلو میں میرے دل کو نہ اے درد کر تلاشمدت ہوئی غریب وطن سے نکل گیا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books