aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "shahiid-e-khanjar-e-inkaar"
خانقاہ نعیمیہ، بہرائچ
ناشر
ایس اے انور
مدیر
ایس۔ اے۔ انور
بزم انور، حیدرآباد
خانقاہ فیاضیہ، پٹنہ
دارالاشاعت خانقاہ امجدیہ، سیوان
بزم انور، سیوان
ناظم خانقاہ مجددیہ، بھوپال
خانقاہ نعمتیہ، گوپال گنج
خانقاہ نیازیہ، بریلی شریف
العالم اکیڈمی، خانقاہ عالیہ شہبازیہ، بہار
دارالاشاعت، خانقاہ امجدیہ، بہار
خانقاہ بلخیہ فردوسیہ، نالندہ
عطیہ کار
خانقاہ حقیمیہ، جونپور
خانقاہ قادریہ، اعظم گڑھ
فریب وعدۂ دل دار کی قدرشہید خنجر انکار سے پوچھ
ابھی اور تیز کر لے سر خنجر ادا کومرے خوں کی ہے ضرورت تری شوخئ حنا کو
سطر مستحکم کے اندر فاصلوں میں رکھ گئے تھے
سنا تھا نیزہ و تلوار و خنجر بیچ ڈالے ہیںمگر ظل الٰہی نے تو لشکر بیچ ڈالے ہیں
شبیہ خنجر قاتل بنا کررکھی سینے میں ہم نے دل بنا کر
شہادت ایک مذہبی تصور ہے جس کے مطابق کسی نیک ارادے کے تحت جان قربان کرنے والے مرنے کے بعد بھی زندہ رہتے ہیں اوربغیر کسی بازپرس کے جنت میں جاتے ہیں ۔شاعری میں عاشق بھی زخمی ہو کر شہادت کا درجہ پاتا ہے۔یہ شہادت اسے معشوق کے ہاتھوں ملتی ہے ۔شہادت کے اس مذہبی تصور کو شاعروں نے کس خوبصورتی کے ساتھ عشق کے علاقے سے جوڑ دیا یہ دیکھنے کی بات ہے ۔
خنجر تسلیم
نامعلوم مصنف
اسلامیات
شاہد اذکار
مثنوی
چمنستان گفتار
خنجر اجمیری
دیوان
فتنئہ انکار ختم نبوت
مرزا محمد حسین
شہید کربلا
محمد ابرار احمد صدیقی
فتنہ انکار حدیث
مفتی ولی حسن ٹونکی
شہید اعظم
ابوالکلام آزاد
گلدستہ شہید ناز
محبوب علی
مجموعہ
خنجر بیداد
ویلنٹائن ولیمز
جاسوسی
شہید حق
شاعری
مثنوی خنجر عشق
منشی امیر اللہ تسلیم
خنجر ہلال
منشی غلام قادر
تاریخی
نیاز آگین محمد شمس الدین
شہید وطن اشفاق اللہ خاں
میوا رام گپت
شہید خنجر ابرو کبھی نہیں مرتےتو آنکھ اٹھا کہ ابھی فیضؔ انتظار میں ہے
تیر و کمان، خنجر و تلوار بن گئےدشمن ملا تو ہاتھ بھی ہتھیار بن گئے
شہید خنجر الفت موا نہیںسلامت ہے سلامت ہے سلامت
خنجرؔ ابرو کو تیری دیکھ کراے ستم گر قتل ہو جاتے ہیں ہم
تمہارے آب خنجرؔ کا ہوں پیاسانہیں ہے آرزو آب بقا کی
گلشن میں اس کے خنجرؔ ابرو کو دیکھ کرشمشیر سے حیا کی کہیں کٹ نہ جائے گل
گلے پر قاتل بے رحم میرےچلایا تو نے خنجرؔ کیا سمجھ کر
قاتل نہیں رہی مجھے امید زندگیخنجرؔ کا تیرے سر پہ مرے وار ہو گیا
مرغ بسمل ہیں جو یہ صیاد آجتو نے کیا خنجرؔ رکھا ہے دام میں
کوئی شے تشنۂ شہادت کونہیں خنجرؔ کی آب کے مانند
ہمارا سر ترے خنجرؔ کے وار کا قاتلہے آرزوئے شہادت میں ہر زماں مشتاق
وہ شہید نگہ ناز نظر آتے ہیںآج کل اور ہی انداز نظر آتے ہیں
دست قاتل میں کوئی تیغ نہ خنجر ہوتامرا سایہ جو مرے قد کے برابر ہوتا
یوں تو چہرے پہ سجا رکھی ہے اک بزم طربکتنے مقتل ہیں مرے سینے کے اندر دیکھو
ہوا ہے قتل اپنے فکر و فن کامگر خنجر لہو میں تر نہیں ہے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books