aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "suu-e-husain-ibn-e-alii"
سوئے حسین ابن علیتم باغی ٹھہرے
گزرے تھے حسین ابن علی رات ادھر سےہم میں سے مگر کوئی بھی نکلا نہیں گھر سے
حسین ابن علی کربلا کو جاتے ہیںمگر یہ لوگ ابھی تک گھروں کے اندر ہیں
حسین ابن علی عالی نسب تھاسزاے عزت و باب ادب تھا
آئی ہے شب قتل حسین ابن علی کیرخصت ہے سحر عترت والاے نبی کی
تخلیق کارکی حساسیت اسے بالآخراداسی سے بھردیتی ہے ۔ یہ اداسی کلاسیکی شاعری میں روایتی عشق کی ناکامی سے بھی آئی ہے اوزندگی کے معاملات پرذرامختلف ڈھنگ سے سوچ بچار کرنے سے بھی ۔ دراصل تخلیق کارنہ صرف کسی فن پارے کی تخلیق کرتا ہے بلکہ دنیا اوراس کی بے ڈھنگ صورتوں کو بھی ازسرنوترتیب دینا چاہتا ہے لیکن وہ کچھ کرنہیں سکتا ۔ تخلیقی سطح پرناکامی کا یہ احساس ہی اسے ایک گہری اداسی میں مبتلا کردیتا ہے ۔ عالمی ادب کے بیشتر بڑے فن پارے اداسی کے اسی لمحے کی پیداوار ہیں ۔ ہم اداسی کی ان مختلف شکلوں کو آپ تک پہنچا رہے ہیں ۔
عشق اور رومان پر یہ شاعری آپ کے لیے ایک سبق کی طرح ہے، آپ اس سے محبت میں جینے کے آداب بھی سیکھیں گے اور ہجر و وصال کو گزارنے کے طریقے بھی۔ یہ پہلا ایسا خوبصورت مجموعہ ہے جس میں محبت کے ہر رنگ، ہر کیفیت اور ہر احساس کو قید کرنے والے اشعار کو اکٹھا کر دیا گیا ہے۔ آپ انہیں پڑھیے اور عشق کرنے والوں کے درمیان شئیر کیجیے۔
نواسۂ نبیؐ حسینؑ ابن حسینؑ
سید علی اکبر رضوی
سیدنا حسین ابن علی
نکہت شاہ جہانپوری
تاریخ اسلام
حسین ابن علی
برہان قاطع
محمد حسین ابن خلف
لغات و فرہنگ
تاریخ فخری
محمد علی ابن علی ابن طبا طبا
قرابا دین ابن تلمیذ
ترجمہ
نہج البلاغہ پیک آف الوقوینس
الفخری - اصول ریاست اور تاریخ ملوک
پروفیسر ابن حسن
نا معلوم ایڈیٹر
مناقب علی ابن ابی طالب
نامعلوم مصنف
شاعری
غدیر خم
سید ابن حسین نقوی
خواتین کی تحریریں
شب شہادت
اسلامیات
ہلاکت اور شہادت
Aug 1955خواتین کی تحریریں
دین پناہ است حسین
شجاعت کے مثالی کارنامے
کہنے کو فقط ابن علی ابن علی ہیںدیکھو تو کہیں جذبۂ حیدر نہیں ملتا
حسین ابن علی اب بھی مشعل حق ہیںانہیں کے نقش قدم پر چلیں غلام حسین
حق کی خاطر ہے حسین ابن علی کا اسوہعہد حاضر کے لئے نیزے پہ سر رکھتا ہوں
ہزار معرکے سر کر کے لوگ ہار گئےحسین ابن علی! فتح تو تمہاری تھی
حسین ابن علی مجھ کو یاد آتے ہیںمیں جب بھی دیکھتا ہوں تشنگی کا دروازہ
تم کہاں ہو حسین ابن علیپھر پکارے ہے کربلا تم کو
حسین ابن علیایک پیغام یہی دے کے گزر جاتے ہیں
پیغام ملا تھا جو حسین ابن علی کوخوش ہوں وہی پیغام قضا میرے لیے ہے
جسے سجدے سلامی دے رہے ہیںترا سجدہ حسین ابن علی ہے
اگر رونا ہے تو رونے کی خاطرحسین ابن علی کا غم بہت ہے
ایوب ہے بدھ ہےحسین ابن علی اور نہ عیسیٰ ہے
یا حسین ابن علی ماتمؔ کو بھیکیجے داخل اپنے زواروں کے بیچ
حسین ابن علیؓ کی یاد میں ماتم کناںرو رو کے کہتا ہے
اس قصد پہ بیٹھے ہو جو صاحب نظرو تمتجدید وضو اشک کے پانی سے کرو تم
مجھے پیچھے نہیں رہنا ہے جینے کی تمناحسین ابن علی کے ساتھ چلنا چاہتا ہوں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books