aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ ",MEaD"
عجب کہ صبر کی میعاد بڑھتی جاتی ہےیہ کون لوگ ہیں فریاد کیوں نہیں کرتے
ابھی میعاد باقی ہے ستم کیمحبت کی سزا ہے اور میں ہوں
تجھ سے جدا ہوئے تو تری یاد بڑھ گئیآزاد ہو کے قید کی میعاد بڑھ گئی
ہمارے دل سے کیا ارمان سب اک ساتھ نکلیں گےکہ قیدی مختلف میعاد کے ہوتے ہیں زنداں میں
ثانیؔ فقط تمہارا لکھا جن خطوط پروہ تو کبھی کے زائد المیعاد ہو گئے
ہائے وہ وقت کہ جب بے پیے مدہوشی تھیہائے یہ وقت کہ اب پی کے بھی مخمور نہیں
کبھی ان مد بھری آنکھوں سے پیا تھا اک جامآج تک ہوش نہیں ہوش نہیں ہوش نہیں
شہر کے آئین میں یہ مد بھی لکھی جائے گیزندہ رہنا ہے تو قاتل کی سفارش چاہیئے
میں دنیا کے معیار پہ پورا نہیں اترادنیا مرے معیار پہ پوری نہیں اتری
ان مد بھری آنکھوں کی تعریف ہو کیا زاہددیکھو تو ہیں دو ساغر سمجھو تو ہیں مے خانہ
زمانے اب ترے مد مقابلکوئی کمزور سی عورت نہیں ہے
پوری نہ ادھوری ہوں نہ کم تر ہوں نہ برترانسان ہوں انسان کے معیار میں دیکھیں
اس لئے کہتے تھے دیکھا منہ لگانے کا مزہآئینہ اب آپ کا مد مقابل ہو گیا
پرکھنے والے پرکھیں گے اسی معیار پر ہم کوجہاں سے کیا لیا ہم نے جہاں کو کیا دیا ہم نے
یہی لہجہ تھا کہ معیار سخن ٹھہرا تھااب اسی لہجۂ بے باک سے خوف آتا ہے
اس کے معیار پر خدا لائےاس نظر تک تو آ گئے ہیں ہم
فکر معیار سخن باعث آزار ہوئیتنگ رکھا تو ہمیں اپنی قبا نے رکھا
دوں گا جواب میں بھی بڑی شد و مد کے ساتھلکھا ہے اس نے مجھ کو بڑے کر و فر سے خط
کوئی بھوکا جو فرط ضعف سے کچھ لڑکھڑا جائےتو دنیا طنز کستی ہے اسے مد مست کہتی ہے
فن جو معیار تک نہیں پہنچااپنے شہکار تک نہیں پہنچا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books