aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ ",hUE"
اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیںجس طرح سوکھے ہوئے پھول کتابوں میں ملیں
آج اک اور برس بیت گیا اس کے بغیرجس کے ہوتے ہوئے ہوتے تھے زمانے میرے
اس کو جدا ہوئے بھی زمانہ بہت ہوااب کیا کہیں یہ قصہ پرانا بہت ہوا
ہم ہوئے تم ہوئے کہ میرؔ ہوئےاس کی زلفوں کے سب اسیر ہوئے
ڈھونڈ اجڑے ہوئے لوگوں میں وفا کے موتییہ خزانے تجھے ممکن ہے خرابوں میں ملیں
گھر سے مسجد ہے بہت دور چلو یوں کر لیںکسی روتے ہوئے بچے کو ہنسایا جائے
یہ محبت کی کہانی نہیں مرتی لیکنلوگ کردار نبھاتے ہوئے مر جاتے ہیں
دعا کو ہات اٹھاتے ہوئے لرزتا ہوںکبھی دعا نہیں مانگی تھی ماں کے ہوتے ہوئے
جی ڈھونڈتا ہے پھر وہی فرصت کہ رات دنبیٹھے رہیں تصور جاناں کیے ہوئے
دل پہ آئے ہوئے الزام سے پہچانتے ہیںلوگ اب مجھ کو ترے نام سے پہچانتے ہیں
قربتیں ہوتے ہوئے بھی فاصلوں میں قید ہیںکتنی آزادی سے ہم اپنی حدوں میں قید ہیں
کس نے بھیگے ہوئے بالوں سے یہ جھٹکا پانیجھوم کے آئی گھٹا ٹوٹ کے برسا پانی
وہ ٹوٹتے ہوئے رشتوں کا حسن آخر تھاکہ چپ سی لگ گئی دونوں کو بات کرتے ہوئے
ہوا کے دوش پہ رکھے ہوئے چراغ ہیں ہمجو بجھ گئے تو ہوا سے شکایتیں کیسی
کہانی لکھتے ہوئے داستاں سناتے ہوئےوہ سو گیا ہے مجھے خواب سے جگاتے ہوئے
ہم کیا کہیں احباب کیا کار نمایاں کر گئےبی اے ہوئے نوکر ہوئے پنشن ملی پھر مر گئے
اپنے سامان کو باندھے ہوئے اس سوچ میں ہوںجو کہیں کے نہیں رہتے وہ کہاں جاتے ہیں
ہوئے نامور بے نشاں کیسے کیسےزمیں کھا گئی آسماں کیسے کیسے
کہانی ختم ہوئی اور ایسی ختم ہوئیکہ لوگ رونے لگے تالیاں بجاتے ہوئے
تم ہمارے کسی طرح نہ ہوئےورنہ دنیا میں کیا نہیں ہوتا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books