aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ ",jIL"
جنگ میں قتل سپاہی ہوں گےسرخ رو ظل الٰہی ہوں گے
الیکشن پھر وہ ذی الحج کے مہینے میں کرائیں گےتو کیا دو دانت کے ووٹر کی پھر قربانیاں ہوں گی
سریر سلطنت سے آستان یار بہتر تھاہمیں ظل ہما سے سایۂ دیوار بہتر تھا
عرضی انصاف کی ہم نے بھی لگا رکھی ہےدیکھیے ظل الٰہی ہمیں کب پوچھتے ہیں
طلب ظل الٰہی کیا کریں اس یار کا سایہگلی میں جس کی ڈھونڈھے ہے ہما دیوار کا سایہ
نہ جی بھر کے دیکھا نہ کچھ بات کیبڑی آرزو تھی ملاقات کی
محبت میں نہیں ہے فرق جینے اور مرنے کااسی کو دیکھ کر جیتے ہیں جس کافر پہ دم نکلے
اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیںجس طرح سوکھے ہوئے پھول کتابوں میں ملیں
عزیز اتنا ہی رکھو کہ جی سنبھل جائےاب اس قدر بھی نہ چاہو کہ دم نکل جائے
اپنی انا کی آج بھی تسکین ہم نے کیجی بھر کے اس کے حسن کی توہین ہم نے کی
ہر آدمی میں ہوتے ہیں دس بیس آدمیجس کو بھی دیکھنا ہو کئی بار دیکھنا
آج اک اور برس بیت گیا اس کے بغیرجس کے ہوتے ہوئے ہوتے تھے زمانے میرے
تصدق اس کرم کے میں کبھی تنہا نہیں رہتاکہ جس دن تم نہیں آتے تمہاری یاد آتی ہے
انجام وفا یہ ہے جس نے بھی محبت کیمرنے کی دعا مانگی جینے کی سزا پائی
نہ پوچھو حسن کی تعریف ہم سےمحبت جس سے ہو بس وہ حسیں ہے
کشتیاں سب کی کنارے پہ پہنچ جاتی ہیںناخدا جن کا نہیں ان کا خدا ہوتا ہے
وہ بات سارے فسانے میں جس کا ذکر نہ تھاوہ بات ان کو بہت نا گوار گزری ہے
بے خودی بے سبب نہیں غالبؔکچھ تو ہے، جس کی پردہ داری ہے
جب بھی آتا ہے مرا نام ترے نام کے ساتھجانے کیوں لوگ مرے نام سے جل جاتے ہیں
خواب کی طرح بکھر جانے کو جی چاہتا ہےایسی تنہائی کہ مر جانے کو جی چاہتا ہے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books