aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ ",pAIL"
یہ جبر بھی دیکھا ہے تاریخ کی نظروں نےلمحوں نے خطا کی تھی صدیوں نے سزا پائی
انجام وفا یہ ہے جس نے بھی محبت کیمرنے کی دعا مانگی جینے کی سزا پائی
عشق سے طبیعت نے زیست کا مزا پایادرد کی دوا پائی درد بے دوا پایا
آگاہ اپنی موت سے کوئی بشر نہیںسامان سو برس کا ہے پل کی خبر نہیں
جانے والے سے ملاقات نہ ہونے پائیدل کی دل میں ہی رہی بات نہ ہونے پائی
شہرت کی بلندی بھی پل بھر کا تماشا ہےجس ڈال پہ بیٹھے ہو وہ ٹوٹ بھی سکتی ہے
ملنے کی طرح مجھ سے وہ پل بھر نہیں ملتادل اس سے ملا جس سے مقدر نہیں ملتا
آگ کا کیا ہے پل دو پل میں لگتی ہےبجھتے بجھتے ایک زمانا لگتا ہے
پال لے اک روگ ناداں زندگی کے واسطےصرف صحت کے سہارے عمر تو کٹتی نہیں
زندگی جبر مسلسل کی طرح کاٹی ہےجانے کس جرم کی پائی ہے سزا یاد نہیں
وہ ایک عکس کہ پل بھر نظر میں ٹھہرا تھاتمام عمر کا اب سلسلہ ہے میرے لیے
اے وائے انقلاب زمانے کے جور سےدلی ظفرؔ کے ہاتھ سے پل میں نکل گئی
راکھ کو بھی کرید کر دیکھوابھی جلتا ہو کوئی پل شاید
غور سے دیکھتے رہنے کی سزا پائی ہےتیری تصویر ان آنکھوں میں اتر آئی ہے
اس کی آنکھوں میں بھی کاجل پھیل رہا ہےمیں بھی مڑ کے جاتے جاتے دیکھ رہا ہوں
یہاں ہر شخص ہر پل حادثہ ہونے سے ڈرتا ہےکھلونا ہے جو مٹی کا فنا ہونے سے ڈرتا ہے
عجیب رات تھی کل تم بھی آ کے لوٹ گئےجب آ گئے تھے تو پل بھر ٹھہر گئے ہوتے
وہ چیز کہتے ہیں فردوس گم شدہ جس کوکبھی کبھی تری آنکھوں میں پائی جاتی ہے
کو بہ کو پھیل گئی بات شناسائی کیاس نے خوشبو کی طرح میری پذیرائی کی
آنکھوں سے وہ کبھی مری اوجھل نہیں رہاغافل میں اس کی یاد سے اک پل نہیں رہا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books