aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "قائل"
رگوں میں دوڑتے پھرنے کے ہم نہیں قائلجب آنکھ ہی سے نہ ٹپکا تو پھر لہو کیا ہے
شہر والوں کی محبت کا میں قائل ہوں مگرمیں نے جس ہاتھ کو چوما وہی خنجر نکلا
اے دوست میں خاموش کسی ڈر سے نہیں تھاقائل ہی تری بات کا اندر سے نہیں تھا
ہم خدا کے کبھی قائل ہی نہ تھےان کو دیکھا تو خدا یاد آیا
اثر بھی لے رہا ہوں تیری چپ کاتجھے قائل بھی کرتا جا رہا ہوں
موت نے کر دیا لاچار وگرنہ انساںہے وہ خودبیں کہ خدا کا بھی نہ قائل ہوتا
اب نام نہیں کام کا قائل ہے زمانہاب نام کسی شخص کا راون نہ ملے گا
عشق اس درد کا نہیں قائلجو مصیبت کی انتہا نہ ہوا
شیخ پر ہاتھ اٹھانے کے نہیں ہم قائلہاتھ اٹھانے کی جو ٹھانی ہے تو باطل سے اٹھا
میں اس کی نظروں کا کچھ اس لئے بھی ہوں قائلوہ جس کو چاہے اسے دیکھنا سکھاتا ہے
ذہن و دل تفریق کے قائل نہیںکیا کروں اپنا پرایا جان کر
ہاں وضع احتیاط کا قائل نہیں ہوں میںجو زخم ہے جگر میں چھپانے سے میں رہا
میں چاہت ایک ایسے موڑ پر لانے کا قائل ہوںجہاں پر چاہنے والا یہ کہتا ہے جدائی دے
مانا کہ تیری دید کے قابل نہیں ہوں میںتو میرا شوق دیکھ مرا انتظار دیکھ
سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہےدیکھنا ہے زور کتنا بازوئے قاتل میں ہے
جھوٹ بولا ہے تو قائم بھی رہو اس پر ظفرؔآدمی کو صاحب کردار ہونا چاہیئے
الٰہی کیسی کیسی صورتیں تو نے بنائی ہیںکہ ہر صورت کلیجے سے لگا لینے کے قابل ہے
نگاہیں اس قدر قاتل کہ اف افادائیں اس قدر پیاری کہ توبہ
میں کیا کروں مرے قاتل نہ چاہنے پر بھیترے لیے مرے دل سے دعا نکلتی ہے
یہ ضروری ہے کہ آنکھوں کا بھرم قائم رہےنیند رکھو یا نہ رکھو خواب معیاری رکھو
Jashn-e-Rekhta 10th Edition | 5-6-7 December Get Tickets Here
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books