aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "ٹھہراؤ"
عجب ٹھہراؤ پیدا ہو رہا ہے روز و شب میںمری وحشت کوئی تازہ اذیت چاہتی ہے
ذات میں جس کی ہو ٹھہراؤ زمیں کی مانندفکر میں اس کی سمندر کی سی وسعت ہوگی
اس کی آنکھوں کے وصف کیا لکھوںجیسے خوابوں کا بیکراں ٹھہراؤ
پھسلن یہ کناروں پہ یہ ٹھہراؤ ندی کاسب صاف اشارہ ہیں کہ گہرائی بہت ہے
اپنا آپ نہیں ہے سب کچھ اپنے آپ سے نکلوبدبوئیں پھیلا دیتا ہے پانی کا ٹھہراؤ
اس کے ٹھہراؤ سے تھم جاتی ہے سب موج حیاتیعنی دریا میں نہیں سانس میں گہرائی ہے
کب ٹھہرے گا درد اے دل کب رات بسر ہوگیسنتے تھے وہ آئیں گے سنتے تھے سحر ہوگی
بے نام سا یہ درد ٹھہر کیوں نہیں جاتاجو بیت گیا ہے وہ گزر کیوں نہیں جاتا
ادا سے دیکھ لو جاتا رہے گلہ دل کابس اک نگاہ پہ ٹھہرا ہے فیصلہ دل کا
تو مجھے چھوڑ کے ٹھکرا کے بھی جا سکتی ہےتیرے ہاتھوں میں مرے ہاتھ ہیں زنجیر نہیں
سفر میں کوئی کسی کے لیے ٹھہرتا نہیںنہ مڑ کے دیکھا کبھی ساحلوں کو دریا نے
دل کی بیتابی نہیں ٹھہرنے دیتی ہے مجھےدن کہیں رات کہیں صبح کہیں شام کہیں
وہ ایک عکس کہ پل بھر نظر میں ٹھہرا تھاتمام عمر کا اب سلسلہ ہے میرے لیے
خوشی کی آرزو کیا دل میں ٹھہرےترے غم نے بٹھا رکھے ہیں پہرے
خود پکارے گی جو منزل تو ٹھہر جاؤں گاورنہ خوددار مسافر ہوں گزر جاؤں گا
آئے ٹھہرے اور روانہ ہو گئےزندگی کیا ہے، سفر کی بات ہے
یہاں تک آتے آتے سوکھ جاتی ہے کئی ندیاںمجھے معلوم ہے پانی کہاں ٹھہرا ہوا ہوگا
ہے جستجو کہ خوب سے ہے خوب تر کہاںاب ٹھہرتی ہے دیکھیے جا کر نظر کہاں
نہ جانے لوگ ٹھہرتے ہیں وقت شام کہاںہمیں تو گھر میں بھی رکنے کا حوصلا نہ ہوا
نہ جانے کون سا آسیب دل میں بستا ہےکہ جو بھی ٹھہرا وہ آخر مکان چھوڑ گیا
Jashn-e-Rekhta 10th Edition | 5-6-7 December Get Tickets Here
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books