aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "बर्स्ट"
آج اک اور برس بیت گیا اس کے بغیرجس کے ہوتے ہوئے ہوتے تھے زمانے میرے
آگاہ اپنی موت سے کوئی بشر نہیںسامان سو برس کا ہے پل کی خبر نہیں
مسجد تو بنا دی شب بھر میں ایماں کی حرارت والوں نےمن اپنا پرانا پاپی ہے برسوں میں نمازی بن نہ سکا
لپٹ جاتے ہیں وہ بجلی کے ڈر سےالٰہی یہ گھٹا دو دن تو برسے
اس امید پہ روز چراغ جلاتے ہیںآنے والے برسوں بعد بھی آتے ہیں
میں وہ صحرا جسے پانی کی ہوس لے ڈوبیتو وہ بادل جو کبھی ٹوٹ کے برسا ہی نہیں
کس نے بھیگے ہوئے بالوں سے یہ جھٹکا پانیجھوم کے آئی گھٹا ٹوٹ کے برسا پانی
جس میں لاکھوں برس کی حوریں ہوںایسی جنت کو کیا کرے کوئی
تم سلامت رہو ہزار برسہر برس کے ہوں دن پچاس ہزار
مت سہل ہمیں جانو پھرتا ہے فلک برسوںتب خاک کے پردے سے انسان نکلتے ہیں
ہونٹوں پہ کبھی ان کے مرا نام ہی آئےآئے تو سہی بر سر الزام ہی آئے
جو مجھ میں تجھ میں چلا آ رہا ہے برسوں سےکہیں حیات اسی فاصلے کا نام نہ ہو
چہرے پہ مرے زلف کو پھیلاؤ کسی دنکیا روز گرجتے ہو برس جاؤ کسی دن
ہمارا زندہ رہنا اور مرنا ایک جیسا ہےہم اپنے یوم پیدائش کو بھی برسی سمجھتے ہیں
اوس سے پیاس کہاں بجھتی ہےموسلا دھار برس میری جان
بوتلیں کھول کر تو پی برسوںآج دل کھول کر بھی پی جائے
گمشدگی ہی اصل میں یارو راہ نمائی کرتی ہےراہ دکھانے والے پہلے برسوں راہ بھٹکتے ہیں
وقت کرتا ہے پرورش برسوںحادثہ ایک دم نہیں ہوتا
گو ذرا سی بات پر برسوں کے یارانے گئےلیکن اتنا تو ہوا کچھ لوگ پہچانے گئے
اک برس بھی ابھی نہیں گزراکتنی جلدی بدل گئے چہرے
Jashn-e-Rekhta 10th Edition | 5-6-7 December Get Tickets Here
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books