aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ ".dhip"
دھوپ میں نکلو گھٹاؤں میں نہا کر دیکھوزندگی کیا ہے کتابوں کو ہٹا کر دیکھو
یہ کہہ کے دل نے مرے حوصلے بڑھائے ہیںغموں کی دھوپ کے آگے خوشی کے سائے ہیں
سفر میں دھوپ تو ہوگی جو چل سکو تو چلوسبھی ہیں بھیڑ میں تم بھی نکل سکو تو چلو
دھوپ نے گزارش کیایک بوند بارش کی
شدید دھوپ میں سارے درخت سوکھ گئےبس اک دعا کا شجر تھا جو بے ثمر نہ ہوا
خدا کرے نہ ڈھلے دھوپ تیرے چہرہ کیتمام عمر تری زندگی کی شام نہ ہو
اے دوپہر کی دھوپ بتا کیا جواب دوںدیوار پوچھتی ہے کہ سایہ کدھر گیا
دھوپ نکلی ہے بارشوں کے بعدوہ ابھی رو کے مسکرائے ہیں
دشت کی دھوپ ہے جنگل کی گھنی راتیں ہیںاس کہانی میں بہر حال کئی باتیں ہیں
کبھی سایہ ہے کبھی دھوپ مقدر میراہوتا رہتا ہے یوں ہی قرض برابر میرا
دوپہر کی دھوپ میں میرے بلانے کے لیےوہ ترا کوٹھے پہ ننگے پاؤں آنا یاد ہے
غربت کی ٹھنڈی چھاؤں میں یاد آئی اس کی دھوپقدر وطن ہوئی ہمیں ترک وطن کے بعد
سبھی کے دیپ سندر ہیں ہمارے کیا تمہارے کیااجالا ہر طرف ہے اس کنارے اس کنارے کیا
پھر یاد بہت آئے گی زلفوں کی گھنی شامجب دھوپ میں سایہ کوئی سر پر نہ ملے گا
تم تو سردی کی حسیں دھوپ کا چہرہ ہو جسےدیکھتے رہتے ہیں دیوار سے جاتے ہوئے ہم
ہم اپنی دھوپ میں بیٹھے ہیں مشتاقؔہمارے ساتھ ہے سایہ ہمارا
اس کڑی دھوپ میں سایہ کر کےتو کہاں ہے مجھے تنہا کر کے
جاتی ہے دھوپ اجلے پروں کو سمیٹ کےزخموں کو اب گنوں گا میں بستر پہ لیٹ کے
وہ ہم سفر تھا مگر اس سے ہم نوائی نہ تھیکہ دھوپ چھاؤں کا عالم رہا جدائی نہ تھی
دیکھوں ترے ہاتھوں کو تو لگتا ہے ترے ہاتھمندر میں فقط دیپ جلانے کے لیے ہیں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books