تلاش کے نتائج
تلاش کا نتیجہ ".gons"
شعر کے متعلقہ نتیجہ ".gons"
شعر
چھیڑتی ہیں کبھی لب کو کبھی رخساروں کو
تم نے زلفوں کو بہت سر پہ چڑھا رکھا ہے
غوث خواہ مخواہ حیدرآبادی
شعر
پریشانی سے سر کے بال تک سب جھڑ گئے لیکن
پرانی جیب میں کنگھی جو پہلے تھی سو اب بھی ہے
غوث خواہ مخواہ حیدرآبادی
شعر
زمانے کا چلن کیا پوچھتے ہو ؔخواہ مخواہ مجھ سے
وہی رفتار بے ڈھنگی جو پہلے تھی سو اب بھی ہے
غوث خواہ مخواہ حیدرآبادی
شعر
اڑا کر دیکھ لے کوئی پتنگیں اپنی شیخی کی
بلندی پر اگر ہوں بھی تو کنے کاٹ سکتا ہوں
غوث خواہ مخواہ حیدرآبادی
شعر
جھگڑ کر جب کہا بیگم نے ہم سے گھر سے جانے کو
بہت بے آبرو ہو کر خود اپنے گھر سے ہم نکلے
غوث خواہ مخواہ حیدرآبادی
شعر
مزاح و طنز کے جب تیر بیٹھیں گے نشانے پر
جو دیوانے ہیں ان کی عقل آئے گی ٹھکانے پر
غوث خواہ مخواہ حیدرآبادی
شعر
سمجھ لے نام تیرا ہی لکھا ہے دانے دانے پر
کبھی مت سوچ معدے کے لئے اچھا برا کیا ہے
غوث خواہ مخواہ حیدرآبادی
شعر
اور اگر چاہے کہ ہو ؔخواہ مخواہ شہرت تیری
یوسفی گر نہیں ممکن تو زلیخائی کر
غوث خواہ مخواہ حیدرآبادی
شعر
کسی کی ڈھل گئی کیسی جوانی دیکھتے جاؤ
جو تھیں بیگم وہ ہیں بچوں کی نانی دیکھتے جاؤ
غوث خواہ مخواہ حیدرآبادی
شعر
جنتا پہ راج کرتی ہے ڈاکوؤں کی ٹولی
وہ بچ گئے جنوں سے کھیلی تھی خوں کی ہولی
غوث خواہ مخواہ حیدرآبادی
شعر
پہلے پہلے شوہر کو ہر موسم بھیگا لگتا ہے
یوں سمجھو بلی کے بھاگوں ٹوٹا چھیکا لگتا ہے