aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ ".phas"
لے دے کے اپنے پاس فقط اک نظر تو ہےکیوں دیکھیں زندگی کو کسی کی نظر سے ہم
شدید پیاس تھی پھر بھی چھوا نہ پانی کومیں دیکھتا رہا دریا تری روانی کو
زندگی ایک فن ہے لمحوں کواپنے انداز سے گنوانے کا
تم مرے پاس ہوتے ہو گویاجب کوئی دوسرا نہیں ہوتا
وہ مجھ کو چھوڑ کے جس آدمی کے پاس گیابرابری کا بھی ہوتا تو صبر آ جاتا
بہت غرور ہے دریا کو اپنے ہونے پرجو میری پیاس سے الجھے تو دھجیاں اڑ جائیں
اسے کیوں ہم نے دیا دل جو ہے بے مہری میں کامل جسے عادت ہے جفا کیجسے چڑھ مہر و وفا کی جسے آتا نہیں آنا غم و حسرت کا مٹانا جو ستم میں ہے یگانہجسے کہتا ہے زمانہ بت بے مہر و دغا باز جفا پیشہ فسوں ساز ستم خانہ بر اندازغضب جس کا ہر اک ناز نظر فتنہ مژہ تیر بلا زلف گرہ گیر غم و رنج کا بانی قلق و دردکا موجب ستم و جور کا استاد جفا کاری میں ماہر جو ستم کیش و ستم گر جو ستم پیشہ ہےدلبر جسے آتی نہیں الفت جو سمجھتا نہیں چاہت جو تسلی کو نہ سمجھے جو تشفی کو نہجانے جو کرے قول نہ پورا کرے ہر کام ادھورا یہی دن رات تصور ہے کہ ناحقاسے چاہا جو نہ آئے نہ بلائے نہ کبھی پاس بٹھائے نہ رخ صاف دکھائے نہ کوئیبات سنائے نہ لگی دل کی بجھائے نہ کلی دل کی کھلائے نہ غم و رنج گھٹائے نہ رہ و رسمبڑھائے جو کہو کچھ تو خفا ہو کہے شکوے کی ضرورت جو یہی ہے تو نہ چاہو جو نہچاہو گے تو کیا ہے نہ نباہو گے تو کیا ہے بہت اتراؤ نہ دل دے کے یہ کس کام کا دلہے غم و اندوہ کا مارا ابھی چاہوں تو میں رکھ دوں اسے تلووں سے مسل کر ابھی منہدیکھتے رہ جاؤ کہ ہیں ان کو ہوا کیا کہ انہوں نے مرا دل لے کے مرے ہاتھ سے کھویا
شکوہ کوئی دریا کی روانی سے نہیں ہےرشتہ ہی مری پیاس کا پانی سے نہیں ہے
ایک محفل میں کئی محفلیں ہوتی ہیں شریکجس کو بھی پاس سے دیکھو گے اکیلا ہوگا
وہ کہیں بھی گیا لوٹا تو مرے پاس آیابس یہی بات ہے اچھی مرے ہرجائی کی
پھر کھو نہ جائیں ہم کہیں دنیا کی بھیڑ میںملتی ہے پاس آنے کی مہلت کبھی کبھی
میں آندھیوں کے پاس تلاش صبا میں ہوںتم مجھ سے پوچھتے ہو مرا حوصلہ ہے کیا
تم اس کے پاس ہو جس کو تمہاری چاہ نہ تھیکہاں پہ پیاس تھی دریا کہاں بنایا گیا
تکلیف مٹ گئی مگر احساس رہ گیاخوش ہوں کہ کچھ نہ کچھ تو مرے پاس رہ گیا
ہو دور اس طرح کہ ترا غم جدا نہ ہوپاس آ تو یوں کہ جیسے کبھی تو ملا نہ ہو
تو اگر پاس نہیں ہے کہیں موجود تو ہےتیرے ہونے سے بڑے کام ہمارے نکلے
نہ کوئی رنج کا لمحہ کسی کے پاس آئےخدا کرے کہ نیا سال سب کو راس آئے
ساری دنیا سے دور ہو جائےجو ذرا تیرے پاس ہو بیٹھے
اقرار ہے کہ دل سے تمہیں چاہتے ہیں ہمکچھ اس گناہ کی بھی سزا ہے تمہارے پاس
پیتا ہوں جتنی اتنی ہی بڑھتی ہے تشنگیساقی نے جیسے پیاس ملا دی شراب میں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books