aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "MISHTI"
اتنی ملتی ہے مری غزلوں سے صورت تیریلوگ تجھ کو مرا محبوب سمجھتے ہوں گے
تیری صورت سے کسی کی نہیں ملتی صورتہم جہاں میں تری تصویر لیے پھرتے ہیں
دنیا جسے کہتے ہیں جادو کا کھلونا ہےمل جائے تو مٹی ہے کھو جائے تو سونا ہے
کچھ تو ترے موسم ہی مجھے راس کم آئےاور کچھ مری مٹی میں بغاوت بھی بہت تھی
گھر لوٹ کے روئیں گے ماں باپ اکیلے میںمٹی کے کھلونے بھی سستے نہ تھے میلے میں
دل سے نکلے گی نہ مر کر بھی وطن کی الفتمیری مٹی سے بھی خوشبوئے وفا آئے گی
نہیں ہے ناامید اقبالؔ اپنی کشت ویراں سےذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی
دل میں نہ ہو جرأت تو محبت نہیں ملتیخیرات میں اتنی بڑی دولت نہیں ملتی
پھر کھو نہ جائیں ہم کہیں دنیا کی بھیڑ میںملتی ہے پاس آنے کی مہلت کبھی کبھی
دلی میں آج بھیک بھی ملتی نہیں انہیںتھا کل تلک دماغ جنہیں تاج و تخت کا
ہم اپنی جان کے دشمن کو اپنی جان کہتے ہیںمحبت کی اسی مٹی کو ہندستان کہتے ہیں
قرض کی پیتے تھے مے لیکن سمجھتے تھے کہ ہاںرنگ لاوے گی ہماری فاقہ مستی ایک دن
اپنی مستی میں بہتا دریا ہوںمیں کنارہ بھی ہوں بھنور بھی ہوں
جب بھی ملتی ہے مجھے اجنبی لگتی کیوں ہےزندگی روز نئے رنگ بدلتی کیوں ہے
آنکھ سے آنکھ جب نہیں ملتیدل سے دل ہم کلام ہوتا ہے
مٹی کی محبت میں ہم آشفتہ سروں نےوہ قرض اتارے ہیں کہ واجب بھی نہیں تھے
چھپ جائیں کہیں آ کہ بہت تیز ہے بارشیہ میرے ترے جسم تو مٹی کے بنے ہیں
میرؔ ان نیم باز آنکھوں میںساری مستی شراب کی سی ہے
مٹی پہ نمودار ہیں پانی کے ذخیرےان میں کوئی عورت سے زیادہ نہیں گہرا
جو دل کو ہے خبر کہیں ملتی نہیں خبرہر صبح اک عذاب ہے اخبار دیکھنا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books