aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "aacharan"
بھانپ ہی لیں گے اشارہ سر محفل جو کیاتاڑنے والے قیامت کی نظر رکھتے ہیں
بکھری ہوئی وہ زلف اشاروں میں کہہ گئیمیں بھی شریک ہوں ترے حال تباہ میں
کوئی اشارہ دلاسا نہ کوئی وعدہ مگرجب آئی شام ترا انتظار کرنے لگے
یہ کہہ رہی ہے اشاروں میں گردش گردوںکہ جلد ہم کوئی سخت انقلاب دیکھیں گے
نیند آئے تو اچانک تری آہٹ سن لوںجاگ اٹھوں تو بدن سے تری خوشبو آئے
جو بھی کہنا ہے کہو صاف شکایت ہی سہیان اشارات و کنایات سے جی ڈرتا ہے
ہر تمنا دل سے رخصت ہو گئیاب تو آ جا اب تو خلوت ہو گئی
کچھ اشارہ جو کیا ہم نے ملاقات کے وقتٹال کر کہنے لگے دن ہے ابھی رات کے وقت
ہے دیکھنے والوں کو سنبھلنے کا اشاراتھوڑی سی نقاب آج وہ سرکائے ہوئے ہیں
ابرو کا اشارہ کیا تم نے تو ہوئی عیداے جان یہی ہے مہ شوال ہمارا
سفر میں اچانک سبھی رک گئےعجب موڑ اپنی کہانی میں تھا
غمزہ نہیں ہوتا کہ اشارا نہیں ہوتاآنکھ ان سے جو ملتی ہے تو کیا کیا نہیں ہوتا
اک زمانے تک بدن بے خواب بے آداب تھےپھر اچانک اپنی عریانی کا اندازہ ہوا
خود ہی اچھالوں پتھر خود ہی سر پر لے لوںجب چاہوں سونے موسم سے منظر لے لوں
جب نگاہوں کے اشارات بدل جاتے ہیںخود بہ خود پیار کے جذبات بدل جاتے ہیں
اچانک ہڑبڑا کر نیند سے میں جاگ اٹھا ہوںپرانا واقعہ ہے جس پہ حیرت اب ہوئی ہے
فضائیں رقص میں ہیں اور برس رہی ہے شرابکسی نے جام سوئے آسماں اچھالا ہے
نہ اشارہ نہ کنایہ نہ تبسم نہ کلامپاس بیٹھے ہیں مگر دور نظر آتے ہیں
اک ذرا تیغ نگہ کو جو اشارا ہو جائےآپ کا نام ہو اور کام ہمارا ہو جائے
کچھ کہتے کہتے اشاروں میں شرما کے کسی کا رہ جاناوہ میرا سمجھ کر کچھ کا کچھ جو کہنا نہ تھا سب کہہ جانا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books