aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "aaina"
اپنی انا کی آج بھی تسکین ہم نے کیجی بھر کے اس کے حسن کی توہین ہم نے کی
کس لیے دیکھتی ہو آئینہتم تو خود سے بھی خوب صورت ہو
اگر تمہاری انا ہی کا ہے سوال تو پھرچلو میں ہاتھ بڑھاتا ہوں دوستی کے لیے
آئنہ دیکھ کر تسلی ہوئیہم کو اس گھر میں جانتا ہے کوئی
آئنہ دیکھ کے کہتے ہیں سنورنے والےآج بے موت مریں گے مرے مرنے والے
گاہے گاہے کی ملاقات ہی اچھی ہے امیرؔقدر کھو دیتا ہے ہر روز کا آنا جانا
آئینہ کیوں نہ دوں کہ تماشا کہیں جسےایسا کہاں سے لاؤں کہ تجھ سا کہیں جسے
ہاں ٹھیک ہے میں اپنی انا کا مریض ہوںآخر مرے مزاج میں کیوں دخل دے کوئی
دل کی بساط کیا تھی نگاہ جمال میںاک آئینہ تھا ٹوٹ گیا دیکھ بھال میں
لے چلا جان مری روٹھ کے جانا تیراایسے آنے سے تو بہتر تھا نہ آنا تیرا
آئینہ دیکھ اپنا سا منہ لے کے رہ گئےصاحب کو دل نہ دینے پہ کتنا غرور تھا
اسے کیوں ہم نے دیا دل جو ہے بے مہری میں کامل جسے عادت ہے جفا کیجسے چڑھ مہر و وفا کی جسے آتا نہیں آنا غم و حسرت کا مٹانا جو ستم میں ہے یگانہجسے کہتا ہے زمانہ بت بے مہر و دغا باز جفا پیشہ فسوں ساز ستم خانہ بر اندازغضب جس کا ہر اک ناز نظر فتنہ مژہ تیر بلا زلف گرہ گیر غم و رنج کا بانی قلق و دردکا موجب ستم و جور کا استاد جفا کاری میں ماہر جو ستم کیش و ستم گر جو ستم پیشہ ہےدلبر جسے آتی نہیں الفت جو سمجھتا نہیں چاہت جو تسلی کو نہ سمجھے جو تشفی کو نہجانے جو کرے قول نہ پورا کرے ہر کام ادھورا یہی دن رات تصور ہے کہ ناحقاسے چاہا جو نہ آئے نہ بلائے نہ کبھی پاس بٹھائے نہ رخ صاف دکھائے نہ کوئیبات سنائے نہ لگی دل کی بجھائے نہ کلی دل کی کھلائے نہ غم و رنج گھٹائے نہ رہ و رسمبڑھائے جو کہو کچھ تو خفا ہو کہے شکوے کی ضرورت جو یہی ہے تو نہ چاہو جو نہچاہو گے تو کیا ہے نہ نباہو گے تو کیا ہے بہت اتراؤ نہ دل دے کے یہ کس کام کا دلہے غم و اندوہ کا مارا ابھی چاہوں تو میں رکھ دوں اسے تلووں سے مسل کر ابھی منہدیکھتے رہ جاؤ کہ ہیں ان کو ہوا کیا کہ انہوں نے مرا دل لے کے مرے ہاتھ سے کھویا
گل ہو مہتاب ہو آئینہ ہو خورشید ہو میراپنا محبوب وہی ہے جو ادا رکھتا ہو
کل اپنے آپ کو دیکھا تھا ماں کی آنکھوں میںیہ آئینہ ہمیں بوڑھا نہیں بتاتا ہے
کیا کوئی نئی بات نظر آتی ہے ہم میںآئینہ ہمیں دیکھ کے حیران سا کیوں ہے
دوسروں پر اگر تبصرہ کیجئےسامنے آئنہ رکھ لیا کیجئے
ذرا وصال کے بعد آئنہ تو دیکھ اے دوستترے جمال کی دوشیزگی نکھر آئی
تھک گیا میں کرتے کرتے یاد تجھ کواب تجھے میں یاد آنا چاہتا ہوں
مری جگہ کوئی آئینہ رکھ لیا ہوتانہ جانے تیرے تماشے میں میرا کام ہے کیا
ہارنے میں اک انا کی بات تھیجیت جانے میں خسارا اور ہے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books