aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "anfus"
شاعری میں انفس و آفاق مبہم ہیں ابھیاستعارہ ہی حقیقت میں خدا سا خواب ہے
ہم اسے انفس و آفاق سے رکھتے ہیں پرےشام کوئی جو ترے غم سے تہی جاتی ہے
انسان کے لہو کو پیو اذن عام ہےانگور کی شراب کا پینا حرام ہے
پرانے سال کی ٹھٹھری ہوئی پرچھائیاں سمٹیںنئے دن کا نیا سورج افق پر اٹھتا آتا ہے
خوابوں کے افق پر ترا چہرہ ہو ہمیشہاور میں اسی چہرے سے نئے خواب سجاؤں
افق کے آخری منظر میں جگمگاؤں میںحصار ذات سے نکلوں تو خود کو پاؤں میں
ساقی کچھ آج تجھ کو خبر ہے بسنت کیہر سو بہار پیش نظر ہے بسنت کی
اثر یہ تیرے انفاس مسیحائی کا ہے اکبرؔالہ آباد سے لنگڑا چلا لاہور تک پہنچا
دل کی دہلیز پہ جب شام کا سایہ اتراافق درد سے سینے میں اجالا اترا
ترے افق پہ سدا صبح جگمگاتی رہےجہاں پہ میں ہوں وہاں شام ہونے والی ہے
اس کی بیٹی نے اٹھا رکھی ہے دنیا سر پرخیریت گزری کہ انگور کے بیٹا نہ ہوا
دختر رز نے اٹھا رکھی ہے آفت سر پرخیریت گزری کہ انگور کے بیٹا نہ ہوا
پھوٹنے والی ہے مزدور کے ماتھے سے کرنسرخ پرچم افق صبح پہ لہراتے ہیں
سورج کے افق ہوتے ہیں منزل نہیں ہوتیسو ڈھلتا رہا جلتا رہا چلتا رہا میں
کیوں اشارہ ہے افق پر آج کس کی دید ہےالوداع ماہ رمضاں وہ ہلال عید ہے
مے کشی کا ہے یہ شوق اس کو کہ آئینے میںکان کے جھمکے کو انگور کا خوشا سمجھا
طناب خیمۂ گل تھام ناصرؔکوئی آندھی افق سے آ رہی ہے
کھاتے ہیں انگور پیتے ہیں شراببس یہی مستوں کا آب و دانہ ہے
میں اس کی آنکھوں کے بارے میں کچھ نہیں کہتاافق سے تا بہ افق اک جہاں سمجھ لیجے
وہ شہر چھوڑ کے مدت ہوئی چلا بھی گیاحد افق پہ مگر چاند روبرو ہے وہی
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books