aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "anthak"
ترے عشق کی انتہا چاہتا ہوںمری سادگی دیکھ کیا چاہتا ہوں
انساں کی خواہشوں کی کوئی انتہا نہیںدو گز زمیں بھی چاہیئے دو گز کفن کے بعد
ترے ماتھے پہ یہ آنچل بہت ہی خوب ہے لیکنتو اس آنچل سے اک پرچم بنا لیتی تو اچھا تھا
آگ تھے ابتدائے عشق میں ہماب جو ہیں خاک انتہا ہے یہ
یاد اسے انتہائی کرتے ہیںسو ہم اس کی برائی کرتے ہیں
فرشتوں سے بھی اچھا میں برا ہونے سے پہلے تھاوہ مجھ سے انتہائی خوش خفا ہونے سے پہلے تھا
علم کی ابتدا ہے ہنگامہعلم کی انتہا ہے خاموشی
مری خواہش ہے کہ آنگن میں نہ دیوار اٹھےمرے بھائی مرے حصے کی زمیں تو رکھ لے
خواب، امید، تمنائیں، تعلق، رشتےجان لے لیتے ہیں آخر یہ سہارے سارے
بھر جائیں گے جب زخم تو آؤں گا دوبارامیں ہار گیا جنگ مگر دل نہیں ہارا
مدتوں بعد میسر ہوا ماں کا آنچلمدتوں بعد ہمیں نیند سہانی آئی
آج کی رات بھی گزری ہے مری کل کی طرحہاتھ آئے نہ ستارے ترے آنچل کی طرح
باپ زینہ ہے جو لے جاتا ہے اونچائی تکماں دعا ہے جو سدا سایہ فگن رہتی ہے
دل سراپا درد تھا وہ ابتدائے عشق تھیانتہا یہ ہے کہ فانیؔ درد اب دل ہو گیا
وہاں سے ہے مری ہمت کی ابتدا واللہجو انتہا ہے ترے صبر آزمانے کی
ابتدا وہ تھی کہ جینا تھا محبت میں محالانتہا یہ ہے کہ اب مرنا بھی مشکل ہو گیا
ایک جیسے لگ رہے ہیں اب سبھی چہرے مجھےہوش کی یہ انتہا ہے یا بہت نشے میں ہوں
نہ ابتدا کی خبر ہے نہ انتہا معلومرہا یہ وہم کہ ہم ہیں سو وہ بھی کیا معلوم
ابتدا یہ تھی کہ میں تھا اور دعویٰ علم کاانتہا یہ ہے کہ اس دعوے پہ شرمایا بہت
ساری گلی سنسان پڑی تھی باد فنا کے پہرے میںہجر کے دالان اور آنگن میں بس اک سایہ زندہ تھا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books