aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "atul"
عجب خلوص عجب سادگی سے کرتا ہےدرخت نیکی بڑی خامشی سے کرتا ہے
پتوں کو چھوڑ دیتا ہے اکثر خزاں کے وقتخود غرضی ہی کچھ ایسی یہاں ہر شجر میں ہے
سفر ہو شاہ کا یا قافلہ فقیروں کاشجر مزاج سمجھتے ہیں راہگیروں کا
کسی درخت سے سیکھو سلیقہ جینے کاجو دھوپ چھاؤں سے رشتہ بنائے رہتا ہے
جب غزل میرؔ کی پڑھتا ہے پڑوسی میرااک نمی سی مری دیوار میں آ جاتی ہے
یہ رہبر آج بھی کتنے پرانے لگتے ہیںکہ پیڑ دور سے رستہ دکھانے لگتے ہیں
اجنبی تم کبھی نہ پاؤ گےمرتبہ جو غزل میں میرؔ کا ہے
ایک ہو جائیں تو بن سکتے ہیں خورشید مبیںورنہ ان بکھرے ہوئے تاروں سے کیا کام بنے
بے خودی میں لے لیا بوسہ خطا کیجے معافیہ دل بیتاب کی ساری خطا تھی میں نہ تھا
مجھ سے چھڑوائے مرے سارے اصول اس نے ظفرؔکتنا چالاک تھا مارا مجھے تنہا کر کے
بے خود بھی ہیں ہشیار بھی ہیں دیکھنے والےان مست نگاہوں کی ادا اور ہی کچھ ہے
تم چلو اس کے ساتھ یا نہ چلوپاؤں رکتے نہیں زمانے کے
تمام عمر خوشی کی تلاش میں گزریتمام عمر ترستے رہے خوشی کے لیے
وہ مہربان نہیں ہے تو پھر خفا ہوگاکوئی تو رابطہ اس کو بحال رکھنا ہے
ملا نہ گھر سے نکل کر بھی چین اے زاہدؔکھلی فضا میں وہی زہر تھا جو گھر میں تھا
وہ ساری خوشیاں جو اس نے چاہیں اٹھا کے جھولی میں اپنی رکھ لیںہمارے حصے میں عذر آئے جواز آئے اصول آئے
یہ سچ ہے اس سے بچھڑ کر مجھے زمانہ ہوامگر وہ لوٹنا چاہے تو پھر زمانہ بھی کیا
اسے اب بھول جانے کا ارادہ کر لیا ہےبھروسہ غالباً خود پر زیادہ کر لیا ہے
بے نیاز دہر کر دیتا ہے عشقبے زروں کو لعل و زر دیتا ہے عشق
لوگ چن لیں جس کی تحریریں حوالوں کے لیےزندگی کی وہ کتاب معتبر ہو جائیے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books